رجسٹریشن: ’31 دسمبر تک مکمل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور نادرا کا کہنا ہے کہ افغان باشندوں کی رجسٹریشن کا عمل سست روی کا شکار ہے تاہم امید ہے کہ اکتیس دسمبر تک پچیس لاکھ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔ اسلام آباد میں افغان باشندوں کی رجسٹریشن مہم کے حوالے سے ایک پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی پاکستان میں نمائندہ مسزگینٹ کا کہنا تھا کہ افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد اس خوف کا شکار ہے کہ رجسٹریشن کے عمل میں شرکت کے بعد انہیں فوری طور پر افغانستان واپس بھیج دیا جائے گا جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن مہم کا مقصد افغان باشندوں کی وطن واپسی نہیں بلکہ امداد کے حوالے سے ان کی شناخت کرنا ہے۔ یو این ایچ سی آر کی نمائندہ کا کہا تھا کہ رجسٹریشن کا یہ عمل پہلے ہی بہت تاخیر سے شروع ہوا ہے اور افغان مہاجرین کو چاہیئے کہ وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ انہیں شناختی دستاویزات جاری کی جا سکیں جو کہ مستقبل میں امداد اور مہاجرین کے مسائل کے حل کے حوالے سے مددگار ثابت ہوں گی۔
یاد رہے کہ رجسٹریشن مہم کے آغاز پر نادرا کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں اس مہم کا مقصد پاکستان بھر میں موجود افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے سلسلے میں جامع پالیسی بنانے کے لیئے اعداد و شمار اکھٹے کرنا بتایا گیا تھا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نادرا کے سربراہ بریگیڈئر سلیم معین نے بتایا کہ رجسٹریشن مہم کے دوران روزانہ تیس ہزار افغانوں کی رجسٹریشن کا ہدف مقرر کیاگیا تھا لیکن افغان باشندوں کی عدم دلچسپی اور دیگر وجوہات کی بنا پر اس وقت روزانہ صرف سات ہزار چار سو افغان باشندوں کو ہی شناختی دستاویزات جاری کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نادرا کے دو ہزار ملازم اس منصوبے میں شریک ہیں اور اب تک ایک لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو شناختی کارڈ فراہم کیئے جا چکے ہیں اور اس کام کے لیئے ملک بھر میں اکہتر مراکز کام کر رہے ہیں۔ اس موقع پر چیف کمشنر برائے افغان مہاجرین نیر آغا کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن کے عمل میں ان افغان باشندوں کو شامل کیا جا رہا ہے جو یکم دسمبر سنہ انیس سو اناسی سے مارچ سنہ دو ہزار پانچ تک بطور مہاجر پاکستان آئے اورگزشتہ برس ہونے والی مردم شماری میں شامل ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف انہی افغان باشندوں کو شناختی دستاویزات جاری کی جا رہی ہیں جو مردم شماری میں شامل ہوئے تھے جبکہ بقیہ افراد کے بارے میں بعد ازاں فیصلہ کیا جائے گا۔ نیر آغا کا کہنا تھا کہ اب تک ایک لاکھ سترہ ہزار افغان باشندوں کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے تاہم اس عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اکتیس دسمبر سنہ دو ہزار چھ تک پاکستان میں موجود پچیس لاکھ افغان باشندوں کو شناختی دستاویزات جاری کی جا سکیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کی نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی نے یو این ایچ سی آر کے تعاون سے پندرہ اکتوبر سے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کے عمل کا آغاز کیا تھا اور اس کام کی تکمیل کے لیئے اکتیس دسمبر سنہ دو ہزار چھ کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی۔ رجسٹریشن کے اس عمل کے باقاعدہ آغاز سے قبل یکم اکتوبر سے دس اکتوبر تک صوبہ پنجاب میں ضلع جھنگ اور صوبہ سرحد میں چترال کے علاقے دیر میں رجسٹریشن کا ایک پائلٹ پروگرام بھی منعقد کیا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں افغان پناہ گزین: اندارج اور کارڈ19 April, 2006 | پاکستان کراچی: جیل سے 562افغان شہری رہا15 February, 2006 | پاکستان ’رنجش، پاکستانیوں کی وجۂ ہلاکت‘31 March, 2006 | پاکستان کوئٹہ: تین افغان ٹی وی چینلز بند 16 March, 2006 | پاکستان باڑ لگانے پر غور کر سکتے ہیں: پاکستان06 March, 2006 | پاکستان پشاور جلال آباد بس سروس اگلے ماہ 22 February, 2006 | پاکستان ’پاک افغان تعلقات بگڑ رہے ہیں‘08 March, 2006 | پاکستان غیر ملکیوں کا انخلاء شروع14 March, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||