’پاک افغان تعلقات بگڑ رہے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے افغانستان کے بارے میں صدر مشرف کے سخت بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرکےانہوں نے پاکستان کے افغانستان کے اچھے تعلقات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ صدر مشرف نے ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران افغان انٹیلیجنس رپورٹ کو بے کار اور پرانی قرار دینے کے علاوہ افغانستان کی حکومت اور ان کے محکمہ دفاع کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیئے تھے۔ بعد میں افغانستان نے ان کے کلمات پر ردعمل بھی ظاہر کیا۔ بے نظیر نے کہا کہ’خراب ہوتے ہوئے حالات میں صدر مشرف نے اپنی کارکردگی کی اصلاح کرنے کی بجائے دوسرے ملک کی انٹیلیجنس رپورٹ کو بلا تحقیق’نان سینس‘قرار دیکر جلتی پر تیل ڈال دیا ہے۔‘ بے نظیر نے کہا کہ انہیں پاکستان کے افغانستان سے بگڑتے تعلقات پر تشویش ہے اور کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے افغانستان کے ساتھ زیادہ اچھے طریقے سے کام کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف حکومت قبائلی علاقوں میں سینکڑوں بچوں، عورتوں اور بے گناہ افراد کو ہلاک کرنے خود کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک قابل اعتماد اتحادی ثابت کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے حالانکہ اس طرح سے حکومت عام آدمی کی اس حمایت سے محروم ہورہے ہیں جو طالبان کو پاکستانی علاقے پر حملوں سے روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ نائن الیون سے پہلے پاکستان کا اس علاقے میں مکمل کنٹرول تھا لیکن طالبان کو افغانستان سے نکالے جانے کے بعد مشرف انہیں پاکستان میں دوبارہ سے منظم ہونے سے روکنے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ وہ نہ صرف افغانستان میں حملے کر رہے ہیں بلکہ ایک ایسی طاقت کے طور پر مجتمع ہورہے ہیں جو فوج پر حملے کرنے اور اسے نقصان پہنچانے کی اہلیت رکھتی ہے۔ بےنظیر نے صدر مشرف پر زور دیا ہے کہ خود کو اپنی ذات کے حصار سے باہر نکال کر ملک و قوم کے لیے سوچیں۔ | اسی بارے میں جمہوریت پر بش کا بیان اہم: بینظیر05 March, 2006 | پاکستان ’نوٹس باجوڑ سے توجہ ہٹانےکےلیے‘ 27 January, 2006 | پاکستان نعروں کی سیاست کب تک؟11 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||