BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 February, 2006, 15:41 GMT 20:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نعروں کی سیاست کب تک؟

شوکت عزیز
عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کا بنیادی فریضہ ہے
پاکستان میں ہنگو میں یوم عاشور کے موقع پر جو کچھ ہوا وہ غیر متوقع نہیں تھا۔ ہنگو میں اگر یہ نہیں ہوتا تو کہیں اور ہوجاتا۔

محرم کے پہلے نو دن امن وامان سے گزر گئے یہ بہت ہے۔ صرف اگر تعجب ہے تو اس بات پر کہ پاکستان میں حکومت فوجی ہو یا جمہوری، عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں جو کہ اس کا بنیادی فریضہ ہے، ناکام رہی ہے۔

لیکن اگر گزشتہ پچاس پچپن سال کے ریکارڈ کو سامنے رکھا جائے تو میرے نزدیک یہ بھی کوئی تعجب کی بات نہیں، یہ تو ہمارے جیسے لوگوں کی خوش فہمی ہے جو امن وامن کے قیام کو حکومت کا فرض سمجھتے ہیں۔

حکومت صرف اپنے مخالفین کی سرکوبی کو اپنا فریضہ سمجھتی ہے اور اس کی ادائیگی میں کبھی بھی لاپرواہی یا کوتاہی نہیں کرتی۔ بلوچستان میں حالیہ کارروائی اس کی ایک مثال ہے۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی عاصمہ جہانگیر کے مطابق ’ڈیرہ بگٹی کو بھوت بنگلہ بناکر رکھدیا ہے‘۔

ایک افواہ یہ تھی کہ کچھ عرصہ پہلے پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب پرویز الٰہی سے بھی کچھ لغزش ہوگئی تھی، بڑی مشکل سے گلو خلاصی ہوئی اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ جناب پرویز مشرف کو 2007 کے بعد بھی وردی سمیت صدر بنانے کا بار بار یقین دلا رہے ہیں۔

صرف ایک بات میں ہمارے رہنما (سیاسی ہوں یا فوجی) مہارت رکھتے ہیں اور وہ ہے نعرے بازی اور نعرے بازی بھی ایسی اوٹ پٹانگ کہ جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اس فن میں جو جہاں ہے ’آفتاب‘ ہے۔ ملک کو درپیش کون سا ایسا مسئلہ ہے جسے ان رہنماؤں نے کسی پرکشش اور جوشیلے نعرے کی نذر نہیں کیا؟

نواز شریف اور شہباز شریف
نواز شریف نے بھی جدوجہد کا اعلان کیا ہے

ہمارے دوست اور ممتاز کالم نویس ظفر اقبال مرزانے جو’ زم‘ کے قلمی نام سے لکھتے ہیں ایک بار بڑی تحقیق اور تفتیش کے بعد ان نعروں کو جو ملک کی تاریخ کے مختلف ادوار میں لگائے جاتے رہے ہیں اپنے ایک کالم میں جمع کردیا تھا جو میں سمجھتا ہوں ان کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔

ان نعروں میں سے کچھ آپ بھی سنیں:
’ہم کشمیر کا پاکستان سے الحاق کرکے رہیں گے‘
’ہم بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد کرادینگے‘
’ہم پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی آنکھیں پھوڑ دینگے‘
’ہم پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنا کر رہیں گے‘
’ ہم معاشرے کو تمام سماجی برائیوں سے پاک کرکے دم لیں گے‘
’ آنے والے انتخا بات میں مخالفوں کے دانت کھٹے کردیں گے‘
’ ہم ملک کو جمہوریت کا گہوارہ بنادیں گے‘
’ہم ملک کو اقرباء پروری، رشوت خوری ، بلیک مارکیٹنگ، زخیرہ اندوزی اور دوسری برائیوں سے پاک کردیں گے‘
’پاکستان کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنادینگے‘
’ہم بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں کی پائی پائی واپس لینگے‘
’ہم غریب عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان دیں گے‘

بے نظیر
بے نظیرگزشتہ نو دس سال سے خود ساختہ جلاوطنی کا شکار ہیں

ان نعروں کی فہرست کچھ اتنی طویل ہے کہ ایک کالم میں سب کو سمونا مشکل ہے۔ تاہم میں نے ایسے نعروں کا ذکر کیا ہے جو پاکستان کی ہر حکومت اور ہر رہنما وہ اقتدار میں ہو یااختلاف میں بڑے تواتر سے لگاتا رہا ہے بلکہ اب تک لگا رہا ہے۔

محترمہ بے نظیر جو ہماری ’تقدیر‘ ہیں گزشتہ کوئی نو دس سال سے خود ساختہ جلاوطنی کا شکار ہیں۔ وہ کبھی دوبئی سے، کبھی امریکہ سے اور کبھی لندن سے اس طرح کے نعرے لگاتی سنائی دیتی ہیں۔

گزشتہ دنوں اپنے میاں نواز شریف سعودی عرب میں کوئی پانچ سال گزارنے کے بعد لندن تشریف لائے تو انہوں نے بھی پھرنعرے بازی شروع کردی۔’پاکستان کو بچانے کےلیے جان کی بازی لگانے کا وقت آگیا ہے‘۔

الطاف حسین
اپنی حکومت میں بھی شائد انہیں سازگار حالات کا انتظار ہے

اپنےجناب الطاف حسین بھی جنہوں نے برطانیہ کو اپنا دوسرا وطن بنانے کا شرف بھی حاصل کرلیا ہے کوئی دس بارہ سال سے لندن میں براجمان ایسے ہی نعرے لگا رہے ہیں۔ ان کا تازہ ترین نعرہ یہ ہے کہ ’پاکستان کے تمام مسائل کا حل ان کی پارٹی کے پاس ہے‘۔

اب اگر ان حضرات سے پوچھیے کہ بھائی قربانی کےاس جذبے اور مسائل پر اتنی دسترس کے باوجود اتنے دنوں سے ملک سے باہر بیٹھے وقت کیوں ضائع کر رہے ہو تو وہ صاف جواب دے دیں گے کہ پاکستان میں حالات ابھی سازگار نہیں ہیں۔ ان سے پوچھیے کہ حالات کو سازگار بنانے کے گُر بھی آپ ہی جانتے ہیں تو وہ کہہ دیں گے کہ پہلے حکومت ان کی واپسی کے لیے حالات سازگار بنائے پھر ہم وہاں جاکر ملک کے حالات سازگار بنائیں گے۔

متحدہ مجلس عمل جو اپنے اس کارنامے پر بڑا فخر محسوس کرتی ہے کہ اس نے ملک کی تمام مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرلیا اور صوبہ سرحد میں اپنی حکومت بھی بنانے میں کامیاب ہوگئی، وہ گزشتہ چار سال میں صرف تھیٹروں پر پابندی لگانے اور میراتھن میں خواتین کی شمولیت کے خلاف دو چار جلوس نکالنے میں کامیاب رہی ہے اور وہ بھی اپنے کارکنوں کے۔

فضل الرحمٰن
متحدہ مجلس عمل مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو اپنا کارنامہ سمجھتی ہے

نہ بیروزگاری دور کرنے کے لیے کوئی اقدام کیا گیا ، نہ ناخواندگی کے خلاف کوئی مہم چلائی گئی۔ نہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں ہم آہنگی پیدا کی گئی، بلکہ میں اگر یہ کہوں تو بیجا نہیں ہوگا کہ جہاں جہاں ان کی حکومت اور اثر رسوخ ہے وہیں فرقہ واریت زور پکڑ رہی ہے۔گلگت، کوئٹہ، پارہ چنار، کوہستان اور اب ہنگو۔

ان کو میراتھن سے ہی فرصت نہیں ملتی۔اب اپنے ان رہنماؤں کوکوئی کیسے سمجھائے کہ بھائی خواتین کو میراتھن میں حصہ لینے سے روکنے کے بجائے ان کو تحفظ فراہم کرنے پر توجہ دیجیے۔ لوگوں میں رواداری اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جزبہ پیدا کرنے پر توجہ دیجیے، جو عوام کے اصل مسائل ہیں انہیں حل کرنے پر بھی توجہ دیجیے۔ اس لیے کی وجہ یہ ہے کہ بابا فرید شکرگنج کے مطابق اسلام کے بنیادی ارکان پورے کرنے کےلیے پیٹ میں روٹی بھی ہونی ضروری ہے۔

ہمارے ان رہنماؤں کو جو جلا وطنی میں خوش ہیں انہیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اگر وہ ملک میں حقیقی جمہوریت قائم کرنا چاہتے ہیں یا ملک کو درپیش تمام مسائل حل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ملک میں جائیں۔

یہاں بیٹھ کر صرف نعرے لگانا ان کی وطن دوستی کے جذبے کو کچھ زیب نہیں دیتا اور نہ اس سے ملک کے حالات ’سازگار‘ ہوں گے۔

نواز شریف فرام لندن
جلاوطنی کی لب کشائی کے چوکے اور چھکے
شجاعت حسین اور شوکت عزیزپیسہ چل رہا ہے
مسلم لیگ کے ناراض گروپ کا الزام
پیر پگاراصدراتی نظام آئےگا؟
پیر پگارا کی نئی سیاسی پیشن گوئی
حملہ آور کو پھانسی
صدر مشرف کے حملہ آور کو پھانسی دے دی گئی
اسی بارے میں
ہڑتال کی کال بے مقصد ہے
06 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد