BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 January, 2006, 10:59 GMT 15:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مصطفٰے کھر پیپلز پارٹی میں سرگرم

غلام مصطفے کھر
’سندھ میں وزیراعلی ارباب رحیم کی حکومت نہیں بلکہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے گورنر عشرت العباد کی حکومت ہے۔‘
پنجاب کے سابق گورنر اور وزیراعلی غلام مصطفے کھر نے پیپلز پارٹی میں دوبارہ سرگرم ہوتے ہی پنجابیوں کے حقوق کا نعرہ بلند کردیا ہے اور کہا ہے کہ کراچی میں پنجابیوں سے اچھا سلوک نہیں ہورہا اور ایم کیو ایم کے لیے بہتر ہوگا کہ پنجابیوں سے برابر کے شہریوں کے طور پر سلوک کرے۔

آج لاہور میں پیپلز پارٹی پنجاب کے صوبائی صدر قاسم ضیاء کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں وزیراعلی ارباب رحیم کی حکومت نہیں بلکہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے گورنر عشرت العباد کی حکومت ہے۔

کھر نے کہا کہ کراچی میں پنجابیوں اور پنجابی افسروں سے اچھا سلوک نہیں ہورہا۔ کھر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ الطاف حسین کے علم میں یہ بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پنجاب میں اپنی پارٹی کے دفاتر کھول رہے ہیں تو ان کے لیے اور ملک کے لیے بھی بہتر ہوگا کہ کراچی میں پنجابیوں سے برابر کے شہریوں کو سلوک کیا جائے اوران سے سوتیلے پن کا سلوک نہ کیاجائے۔

کھر نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے ان کے ذاتی تعلقات ہیں اور وہ ان کی عزت کرتے ہیں۔ انہوں نے الطاف حسین سے درخواست کی کہ وہ اس بات کا نوٹس لیں اور اگر انہیں پنجاب کے حوالہ سے کوئی شکایت ہے تو وہ ان سے بات کریں۔

پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت نے آج بالآخر مصطفٰے کھر کو پارٹی میں قبول کرنے کا رسمی اعلان کردیا۔ پارٹی کے صوبائی صدر قاسم ضیاء نے کہا کہ کھر پارٹی کے کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے اجلاس منعقد کریں گے۔

اس سے پہلے پیپلزپارٹی پنجاب نے کھر سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کھر تو پارٹی کے بنیادی رکن ہی نہیں۔ پارٹی کے زیر اہتمام لاہور میں ایک کنوینشن میں انہیں خطاب کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔

چار سال پہلے کھر نے قاسم ضیاء کے مقابلہ میں پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر کا انتخاب لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے تو انہیں اس بنیاد پر مسترد کردیا گیا تھا کہ وہ پارٹی کے رکن نہیں۔

آج لاہور میں پارٹی کے صوبائی صدر قاسم ضیا، مصطفٰے کھر اور مرکزی رہنما خالد کھرل نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں قاسم ضیاء نے اعلان کیا کہ پارٹی کی چئرپرسن بے نطیر بھٹو نے کھر کو کارکنوں کے اجلاس منعقد کرنے کی اجازت دی ہے اور وہ انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی تو پہلے بھی فعال ہے لیکن کھر اسے مزید فعال بنائیں گے۔ قاسم ضیاء کا کہنا تھا کہ پارٹی اسی سال بے نظیر بھٹو کو ملک واپس لائے گی اور کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے صوبہ کے مختلف مقامات پر کنوینشن منعقد کرے گی۔

کھر نے اس موقع پر کہا کہ وہ گزشتہ چھ سال زیر زمین رہنے کے بعد دوبارہ میدان میں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے تجربہ کو کام میں لا کر پارٹی کے کارکنوں کو متحرک اورمتحد کرنا چاہتے ہیں اور پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں چاہتے۔

مصطفے کھر نے خود سے انیس جنوری کو ملتان میں کارکنوں کا جو اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا اسے منسوخ کردیا ہے۔ اٹھارہ جنوری کو پارٹی کی صوبائی ایگزیکٹو فیصلہ کرے گی کہ کس تاریخ کو کس مقام پر کنوینشن ہوگا اور اس سے کون خطاب کرے گا۔

کھر دو سال سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں دس سال کے لیے فوج سے شراکت اقتدار کا سمجھوتہ کرلیں اور اس مصالحت کے نتیجہ میں صدر جنرل مشرف بے نظیر بھٹو اور نوازشریف سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کو بیرون ملک سے باعزت طور پر ملک واپس لائیں۔

پیپلزپارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کا کھر کو پارٹی میں سرگرم کردار دینے سے پنجاب میں قاسم ضیاء اور جہانگیر بدر کے دو مخالف دھڑوں کے لیے ایک دھچکہ ہوسکتا ہے کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو کے دست راست رہنے والے کھر روایتی طور پر پارٹی کے کارکنوں میں مقبول رہے ہیں۔

یوں لگتا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کی بنائی ہوئی حکمران مسلم لیگ نے کالاباغ بنانے کا نعرہ لگا کر جس طرح پنجاب میں سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے پیپلزپارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو نے اس کے توڑ کے لیے مصطفٰے کھر کو آگے کیا ہے جو پنجاب کے حقوق کے چیمپئن کے طور پہچانے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد