پیپلزپارٹی کا ایم این اے منحرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرگودھا سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی انعام الحق پراچہ حکمران مسلم لیگ میں شامل ہوگئے ہیں اور حکمران جماعت نے انہیں سرگودھا سے ضلع ناظم کا امیدوار نامزد کردیا ہے۔ یونین کونسلوں کے انتخابات کے بعد پراچہ پیپلزپارٹی کے پنجاب سے دوسرے رکن قومی اسمبلی ہیں جنہوں نے وفاداری تبدیل کرکے حکمران جماعت کی جانب سے ضلعی ناظم کے امیدوار بنے ہیں۔ اس سے پہلے بہاولنگر سے ممتاز متیانہ ایسا کرچکے ہیں۔ قانون کے مطابق ضلعی ناظم بننے کی صورت میں انہیں قومی اسمبلی کی نشست چھوڑنا پڑے گی۔ انعام الحق پراچہ کے بھائی احسان الحق پراچہ بے نظیر بھٹو کی حکومت میں وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ تھے لیکن انہوں نے گزشتہ انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔ وہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے رکن ہیں۔ اکتوبر دو ہزار دو کے انتخابات میں انعام الحق پراچہ سرگودھا (بھلوال) کی این اے چونسٹھ کی نشست سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے۔ یہ نشست پراچہ خاندان کی محفوظ نشست تصور کی جاتی ہے۔ انعام الحق پراچہ کے پیپلز پارٹی سے منحرف ہونے کی قیاس ارائیاں کچھ عرصہ سے گردش کررہی تھیں اور کہا جارہا تھا کہ اس کے بدلہ میں ان کے خاندان کو حکومت سرگودھا کی ضلعی نظامت دے گی۔ کہا جارہا ہے کہ انعام الحق پراچہ قومی اسمبلی کی نشست صدر پرویز مشرف کے معتمد اور قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل طارق عزیز کے لیے خالی کردیں گے جن کا اسی علاقہ سے تعلق ہے۔ عام انتخابات سے لے کر اب تک پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے بیس سے زیادہ ارکان قومی اسمبلی وفاداری تبدیل کرکے حکمران جماعت میں شامل ہوچکے ہیں۔ پنجاب کے وزیراعلی چودھری پرویز الہی نے کہا ہے کہ دوسری جماعتوں کے لوگ ان کی حکومت کی کارکردگی اور ترقیاتی کام دیکھ کر اس میں شامل ہورہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||