BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 January, 2006, 00:38 GMT 05:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نوٹس باجوڑ سے توجہ ہٹانےکےلیے‘

بینظیر اور زرداری(فائل فوٹو)
’صدر جنرل پرویز مشرف اپنی ’ناجائز‘ حکومت برقرار رکھنے کے لیے ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ کو استعمال کر رہے ہیں‘
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت نے ملکی حالات، خصوصًا باجوڑ کے واقعے پر سے توجہ ہٹانے کے لیے ان کے خلاف انٹرپول سے ریڈ نوٹس جاری کروائے ہیں۔


یہ بیان انہوں نے چھبیس جنوری کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائس آف امریکہ کے تحت منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں دیا۔

اس سے قبل پاکستان حکومت کی درخواست پر انٹرپول نے پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری کی گرفتاری کے لیے 'ریڈ نوٹس' جاری کیے تھے۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں کسی عدالت نے انہیں طلب نہیں کیا اور اگر کسی عدالت کو ان کی ضرورت ہے تو وہ اگلے ہوائی جہاز سے پاکستان جانے کے لیے تیار ہیں۔

محترمہ بھٹو نے کہا کہ حکومت نو سال سے ان کے پیچھے پڑی ہے لیکن پاکستان کی کسی بھی عدالت نے آج تک انہیں سزا نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو میں وہ لوگ کام کرتے ہیں جنہیں جنرل مشرف نے ذاتی طور پر چنا ہے اور وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں جنرل مشرف کے اشارے پر کرتے ہیں۔

بھٹو نے کہا کہ ان کے وکیل انٹرپول اور وزارت داخلہ سے رابطہ کر رہے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا واقعی ان کے خلاف وارنٹ جاری کیے گئے ہیں اور کئے گئے ہیں تو کن الزامات کے تحت۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کے اس بیان پر کہ پاکستان میں داخلے پر انہیں گرفتار کر لیا جائے گا بینظیر بھٹو نے کہا کہ یہ حکومت ایک ڈکٹیٹرشپ ہے اور وہ جو چاہے کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے اور ان کے شوہر آصف زرداری کے خلاف لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

بے نظیر بھٹو نے الزام لگایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اپنی ’ناجائز‘ حکومت برقرار رکھنے کے لیے ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ کو استعمال کر رہے ہیں۔

بے نظیر بھٹو نے کہا کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جمہوری اداروں کو مستحکم بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فوجی عامریت نے سیکولر جمہوری جماعتوں کو کچلنے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے انتہا پسند مذہبی جماعتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا ہے۔

فلسطینی انتخابات میں حماس کی کامیابی کے حوالے سے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ مسلم ممالک میں عام انتخابات میں انتہا پسند عناصر ہی کیوں کامیاب ہوتے ہیں محترمہ بھٹو نے پاکستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے ممالک میں حکومت جائز اور میانہ رو حزب اختلاف کو کچلتی ہے جس کی وجہ سے انتخابات میں انتہا پسند کامیاب ہوتے ہیں۔

باجوڑ پر بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو عام شہریوں کی ہلاکت پر افسوس ہے لیکن ساتھ ہی اسے یہ بھی اندازہ ہے کہ انتہا پسند عناصر اور القاعدہ کے حامی پاکستان کے کچھ علاقوں کو ’دہشت گردی‘ کے لیے استعمال کر رہے ہیں جو کہ نہیں ہونا چاہیے۔

بینظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری بھی اس پریس کانفرنس میں موجود تھے لیکن انہوں نے اخباری نمائندوں کے سوالوں کے جواب دینے سے یہ کہہ کہ انکار کر دیا کہ ان کی طبیعت خراب ہے اور وہ انٹریو نہیں دیں گے۔

اسی بارے میں
بینظیر بھٹو سمیت پانچ بری
30 November, 2005 | پاکستان
سوئس کیس کی کارروائی مؤخر
20 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد