BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوئس کیس کی کارروائی مؤخر

بینظیر بھٹو
’کسی حکومتی سودے میں کمیشن نہیں کھائی‘
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے سوِئٹزرلینڈ میں ایک تحقیقاتی مجسٹریٹ کی عدالت میں اپنے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کے بارے میں چل رہے کیس میں کہا ہے کہ انہوں نے کسی حکومتی سودے میں کمیشن نہیں کھایا اور نہ ہی وہ کسی ایسی سوئس کمپنی کی مالک ہیں جو منی لانڈرنگ میں ملوث ہو۔

پیر اور منگل کی درمیانی شب بے نظیر بھٹو کی پارٹی پی پی پی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو نے ان الزامات سے بھی انکار کیا کہ انہوں نے کمیشن کے پیسوں سے زیورات خریدے تھے۔

سابق وزیر اعظم نے سوئس میجسٹریٹ کے سامنے اپنے خلاف حکومت پاکستان کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا دفاع کیا اور کہا کہ ان کے دور میں SGS نامی کمپنی کو دئے گئے کانٹریکٹ میں کسی قسم کی مالی بے ضابطگی نہیں ہوئی تھی۔ جبکہ پاکستانی حکومت کا دعوی ہے کہ پاکستانی حکومت کی درخواست پر تفتیش کے دوران سوئس حکام کو سات ایسے بینک کھاتے ملے جن میں تقریباً تیرہ ملین ڈالر کی رقم جمع کرائی گئی تھی اور جن تک بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری کی پہنچ تھی۔ ان اکاؤنٹس کے نام نہیں ہوتے صرف نمبر ہوتے ہیں۔

بےنظیر بھٹو کے بیان کے بعد سوئس میجسٹریٹ نے اس کیس کی کارروائی کو چار سے چھ ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا۔

سابق وزیر اعظم کے شوہر آصف زرداری ان کے ہمراہ سوئس میجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

پی پی پی کے بیان کے مطابق بےنظیر بھٹو نے اس کیس میں پیشی کے بعد جینیوا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیسز سیاسی بنیادوں پر بنائیں گئے ہیں اور پاکستان کی فوجی حکومت ان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔

بے نظیر بھٹو گزشتہ برس جون میں بھی سوئس میجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئی تھیں جہاں انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کیا تھا اور حکومت پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ غیر ملکی عدالتی نظام کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس سے قبل اگست سن دو ہزار تین میں سوٹزرلینڈ میں ایک تحقیقاتی مجسٹریٹ نے سابق وزیر اعظم اور ان کے شوہر کے خلاف کالے دھن کو سفید کرنے کا الزام لگاتے ہوئے چھ ماہ کی معطل سزا اور پچاس ہزار ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ تاہم یہ فیصلہ بعد میں اس وقت معطل کر دیا گیا تھاجب بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر نے سوئٹزرلینڈ کے اٹارنی جنرل کے پاس اپیل کی تھی جس پر اٹارنی جنرل نے ان تحقیقات کو از سر نو کروانے حکم دیا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں پاکستان کی حکومت نے سوئس حکومت سے بینظیر بھٹو کے خلاف حکومتی معاہدوں میں کمیشن کھانے اور اس رقم کو سائس بینکوں میں بے نامی اکاؤنٹس میں رکھنے کے بارے میں تحقیقات کی درخواست کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد