بینظیر، زرداری کے ریڈ نوٹس جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت کی درخواست پر انٹرپول نے پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری کی گرفتاری کے لیے 'ریڈ نوٹس' جاری کردیئے ہیں۔ انٹرپول کی جانب سے جاری کیے جانے والی پریس ریلیز کے مطابق پاکستان کی حکومت کی جانب سے درخواست موصول ہونے کے بعد بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے ’ریڈ نوٹس ‘ جاری کیے ہیں۔ اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کا کہنا ہے کہ پہلی دفعہ انٹرپول نے بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری کے خلاف نوٹس جاری کیا ہے۔ بے نظیر بھٹواور آصف زرداری کے خلاف پاکستان میں مبینہ بدعنوانی کے کئی مقدمے پاکستان میں زیر التوا ہیں۔ انٹرپول نے ریڈ نوٹس کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریڈ نوٹس ایسی صورت میں جاری کیا جاتا ہے جب انٹرپول کے ممبران میں سے کوئی یہ ثابت کرے کہ اس کا کوئی شہری قانونی لحاظ سے جائز گرفتاری سے بچنے کے لیے کسی دوسرے ملک میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ ایسی درخواست موصول ہونے پر انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کا پابند ہوتا ہے بشرطیکہ درخواست انٹرپول کے قانون اور آئین کی خلاف ورزی نہ کرتا ہو۔ انٹرپول نے یہ بھی واضح کیا کہ ریڈ نوٹس کے جاری ہونے کے باوجود کسی شخص کی گرفتاری انٹرپول کے آئین کے آرٹیکل تھری کی خلاف ورزی میں نہیں ہونی چاہیے۔ ایسی صورت میں ریڈ نوٹس کے تحت گرفتاری نہیں ہو سکتی ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ گرفتاری’ سیاسی، فوجی، مذہبی یا نسلی مقاصد کے لیے استعمال ہو گی۔ انٹرپول کے مطابق اس کے کئی ممبران جن کا گرفتاری کی درخواست کرنے والے ملک کے ساتھ ملزموں کے تبادلے کا معاہدہ ہو وہ ریڈ نوٹس کوگرفتاری کی لیے ایک جائز درخواست تصور کرتے ہیں۔ انٹر پول نے واضح کیا کہ ریڈ نوٹس کے تحت گرفتاری انٹرپول کے حکام نہیں کرتے بلکہ اس ملک کے پولیس کرتی ہیں جہاں ملزم رہائش پذیر ہو۔
کوئی ملک یا وہ فرد جس کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹس جاری کیا گیا ہو، اس کو آرٹیکل تھری کے تحت چیلنج کر سکتا ہے۔ ریڈ نوٹس کو چیلنج کرنے کی درخواست انٹرپول کمشن آف انٹرپول فائلز (سی سی ایف) کے تحت فائل کی جا سکتی ہے جو اس کی بنیاد پر سیکریٹری جنرل کو سفارشات بھیجتا ہے۔ ریڈ نوٹس کو چیلنج کیے جانے کی صورت میں انٹرپول کا قانونی سیکشن معاملے کا تفصیلی جائزہ لے گا اور اگر ضرورت محسوس کی تو وہ درخواست کرنے والے ملک اور اس کو چیلنج کرنے والے فرد سے مزید معلومات فراہم کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔ اگر کوئی فریق بھی انٹرپول کے فیصلے آرٹیکل تھری کے فیصلے سے غیر مطمئن ہو تو وہ ادارے کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سامنے اپیل کر سکتا ہے۔ اگر وہاں سےبھی مطمئن نہ ہو تو معاملہ ادارے کی سے سب اعلی گورننگ باڈی ، جنرل اسمبلی کے سامنے جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں نصرت بھٹوریفرنس پھرداخل دفتر05 January, 2006 | پاکستان بینظیر بھٹو سمیت پانچ بری30 November, 2005 | پاکستان سوئس کیس کی کارروائی مؤخر20 September, 2005 | پاکستان سوئس عدالت: بینظیر کا بیان قلمبند 19 September, 2005 | پاکستان بے نظیر مشرف ڈیل، حقیقت کیا؟06 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||