بینظیر بھٹو سمیت پانچ بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کی پرسنل سیکریٹری ناہید خان سمیت پانچ افراد کو پی آئی اے ریفرنس میں بری کردیا گیا ہے۔ یہ پہلا کیس ہے جس میں بینظیر بری ہوئی ہیں۔ کراچی کی احتساب کورٹ کے جج پرکاش لعل کی عدالت نے بدھ کی شام سوا سات بجے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے بتایا کہ پراسیکیوشن ملزمان پر الزام ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں اس لئے ان کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔ نواز شریف کے دور حکومت میں پانچ مئی انیس سو چھیانوے کو احتساب بیورو میں یہ ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔ اس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ بینظیر بھٹو کے پرنسپل سیکریٹری احمد صادق، پرسنل سیکریٹری ناہید خان، پی آئی اے کے مینیجنگ ڈائریکٹر ایئر وائس مارشل عمر صادق، ڈائریکٹر ایڈمن غلام قادر شاہ اور سیکشن افسر نجم احسن نے ساڑھے سترہ سو سے زائد من پسند افراد کو پی آئی اے میں بھرتی کیا اور پرموشن دیے۔ بینظیر بھٹو کے وکیل بیرسٹر عزیزاللہ شیخ نے بتایا کہ ’ہم نے ریفرنس میں دو نکات اٹھائے تھے۔ ایک یہ کہ جن افراد کے نام یہ کہا گیا ہے کہ سفارش پر نااہل لوگ پی آئی اے میں بھرتی کیے گئے ہیں ان کو سپریم کورٹ نے بحال کردیا ہے جبکہ یہ قرار دیا ہے کہ ان کو میرٹ پر بھرتی کیا گیا ہے۔‘
ان کے مطابق ’دوسرا نکتہ تھا کہ احتساب ایکٹ کے تحت دائر ریفرنس میں من پسند افراد کو بھرتی کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ بعد میں جج صاحب نے بدنیتی کرتے ہوئے اس ریفرنس میں احتساب آرڈیننس کے تحت یہ فقرے بھی شامل کردیے کہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت کے بدلے یہ بھرتی اور پرموشن کیے گئے۔‘ ’اس کے خلاف ہم نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ نکتہ ٹرائل کورٹ میں اٹھایا جائے۔ احتساب کورٹ نے اس ترمیم کو بھی غلط قرار دیا ہے۔‘ فیصلے کے وقت کمرے عدالت میں ناہید خان، ایئر وائس مارشل (ر) عمر صادق، سابق ڈائریکٹر ایڈمن غلام قادر شاہ اور سیکشن افسر نجم احسن بھی موجود تھے۔ نو سال تک زیر سماعت رہنے والے اس ریفرنس کیس کا فیصلہ بدھ کے روز احتساب کورٹ نے معمول کے اوقات کار سے ہٹ کر شام سوا سات بجے سنایاہے۔ ناہید خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیس کا فیصلہ حکومت کی جانب سے گرین سگنل نہیں ہے۔ ’ہمارے وکلاء نے ثابت کیا ہے کہ بینظیر بھٹو اور ان کے ساتھیوں پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں۔‘ پیپلز پارٹی کے پینل میں شامل ایڈووکیٹ ابوبکر زرداری نے بی بی سی کو بتایا کہ بینظیر بھٹو کے خلاف اس وقت بھی تین ریفرنس زیر سماعت ہیں جن میں کوٹیکنا، ایس جی ایس اور اسیس ریفرنس شامل ہیں۔ ان میں سے ایس جی ایس کیس میں احتساب کورٹ نے بینظیر کو غیر موجودگی میں تین سال قید کی سزا سنائی تھی جس کو بعد میں سپریم کورٹ نے معطل کرتے ہوئے دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا تھا۔ | اسی بارے میں مبارک ہو: نواز کا بےنظیرکوفون24 November, 2004 | پاکستان سوئس عدالت: بینظیر کا بیان قلمبند 19 September, 2005 | پاکستان تضادات سے بھرا انسان04 April, 2005 | پاکستان ’ہم بھی مفاہمت چاہتے ہیں‘13 March, 2005 | پاکستان بے نظیر مشرف ڈیل، حقیقت کیا؟06 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||