BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 January, 2006, 15:21 GMT 20:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر نےریڈ نوٹس چیلنچ کر دیا

بینظیر اور زرداری
انٹرپول نے بیظیر بھٹو اور آصف زردای کی گرفتاری کے ریڈ نوٹس جاری کردیئے۔
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نےاپنے اور آصف زرداری کی گرفتاری کے لیے جاری کیے جانے والے ’ریڈ نوٹس، کو چیلینج کردیا ہے اور انٹر پول ان نوٹسوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بینظیر بھٹو کے وکیل سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے انٹر پول کے سیکریٹری جنرل کو خط لکھا ہے جس میں انہیں بتایا ہے کہ پاکستان حکومت سیاسی بنیاد پر کردار کشی کرنے کے لیے انٹر پول کو استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ خط میں انہوں نے انٹر پول کے قوانین کی شق تین کے تحت معاملہ اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق شق تین کے تحت سیاسی، مذہبی، نسلی اور فوجی مقاصد کے لیے استعمال کی جانے والی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکتی۔

فاروق نائیک نے بتایا کہ ان کی بینظیر بھٹو سے بات ہوئی ہے اور ان کی ہدایت پر ہی انہوں نے انٹر پول کی جان سے جاری ہونے والے ’ریڈ نوٹس‘ کو چیلینج کرتے ہوئے انہیں باضابطہ طور پر خط لکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی فورم پر متعلقہ فریق کو سنے بنا اس کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی اور یہ نکتہ بھی انہوں نے اپنے خط میں اٹھایا ہے۔

فاروق نائیک نے بتایا کہ آصف علی زرداری کو تین مقدمات جوکہ ’بی ایم ڈبلیو کار کیس، ایس جی ایس، اور آے آر وائی گولڈ کے نام سے مشہور ہیں ان کی سماعت کے دوران حاضر نہ ہونے پر اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔

جبکہ ان کے مطابق بینظیر بھٹو کو غیر حاضری کی بنا پر دو مقدمات اثاثہ جات اور ایس جی ایس میں تین تین برس قید کی سزا ہوئی ہے اور ان مقدمات کی بنیاد پر یہ ریڈ نوٹس جاری کروائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر حکم سنایا ہے کہ کسی ملزم کو بھی غیر حاضری میں سزا نہیں دی جاسکتی۔

فاروق نائیک نے کہا کہ ان مقدمات میں ٹرائل کورٹ نے سزا دی ہے اور اعلیٰ عدالتوں میں ان کی اپیلیں زیر سماعت ہیں اور قانونی عمل مکمل ہوئے بنا انٹر پول ریڈ نوٹس جاری نہیں کرسکتا۔

ادھر وزیر اطلاعات شیخ رشید نے بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر کی گرفتاری کے لیے انٹر پول سے پاکستان حکومت کی درخواست پر ریڈ نوٹس جاری کیے کے بعد کہا کہ اب بینظیر اور ان کی پارٹی کی قسمت کا فیصلہ جلد ہونے والا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ انٹر پول سے ریڈ نوٹس اجرا کرانا بینظیر بھٹو پر دباؤ ڈالنے اور ان کی کردار کشی کے لیے حکومت کی نئی چال قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں
بینظیر بھٹو سمیت پانچ بری
30 November, 2005 | پاکستان
سوئس کیس کی کارروائی مؤخر
20 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد