BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 January, 2006, 13:30 GMT 18:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نصرت بھٹوریفرنس پھرداخل دفتر

نصرت بھٹو
نصرت بھٹو اپنی یادداشت کھوچکی ہیں
لاہور میں ایک احتساب عدالت نے پیپلز پارٹی کی سابق چئرپرسن اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی والدہ نصرت بھٹو کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کا ایک ریفرنس دوسری بار جمعرات کو داخل دفتر کردیا۔

پانچ سال پہلے نصرت بھٹو پر قومی احتساب بیورو کی جانب سے برطانیہ، فرانس اور سوئزرلینڈ میں ڈیڑھ ارب امریکی ڈالرز (سو ارب روپے سے زیادہ) کےغیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں ایک ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔

گزشتہ سال ستمبر میں احتساب جج نے نیب سے کہا تھا کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ نصرت بھٹوکی جائیداد کی ضبطی کا جو حکم دیا گیا تھا تو کیا وہ ضبط کی گئی یا نہیں، اور ان اثاثوں کی تفصیل کیا ہے؟

نیب کے وکیل مصباح الحسن نے عدالت کو جمعرات کو بتایا کہ ریفرنس میں ہی نصرت بھٹو کے اثاثوں کی فہرست منسلک کی گئی ہے۔

تاہم جج نے کہا کہ یہ فہرست کافی نہیں ہے اور اس میں درج ملکی اثاثوں کی مالیت تو بیس لاکھ سے زیادہ نہیں۔ جج نے کہا کہ اس فہرست میں غیر ملکی اثاثوں کی تفصیل بھی نہیں ہے۔ جج نے کہا کہ نیب نصرت بھٹو کے مبینہ ڈیڑھ ارب ڈالر کے اثاثوں کی تفصیل بتائے۔

نیب کے وکیل نے عدالت کو جواب دیا کہ ہم اس پر کارروائی کررہے ہیں۔ اس پر جج نے کہا کہ وہ فہرست کی غیرموجودگی میں نصرت بھٹو کے اثاثوں کو قرق کرنے کا حکم نہیں دے سکتے اور ریفرنس کو داخل دفتر کرتے ہیں۔

نصرت بھٹو شدید بیمار ہیں

پانچ سال پہلے احتساب عدالت نے نصرت بھٹو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور دانستہ روپوشی کے الزام میں انہیں اٹھارہ نومبر سنہ دو ہزار کو دو سال قید اور جائیداد کی ضبطی کی سزا سنائی تھی۔

گزشتہ سال ستمبر میں اس سزا کے پانچ سال بعد احتساب عدالت کے جج رانا زاہد محمود نے اس ریفرنس کی دوبارہ سماعت شروع کردی تھی اور آج اسے دوبارہ داخل دفتر کردیا۔

احتساب عدالت کو بے نظیر بھٹو کے وکیل فاروق نائک نے بتایا تھا کہ نصرت بھٹو کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ اپنی یادداشت کھوچکی ہیں اور اتنی بیمار ہیں کہ وہ اپنے وکالت نامہ بھی دستخط نہیں کرسکتیں۔

فاروق نائک نے احتساب جج کے سامنے ضابطہ فوجدای کی مختلف دفعات کے حوالے دیے اور عدالت سے کہا تھا کہ جو ملزم ذہنی طور پر صحت مند نہ ہو اسے کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی۔

اسی بارے میں
نصرت بھٹو کی یادداشت ختم
19 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد