BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 October, 2005, 13:11 GMT 18:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نصرت بھٹو کی یادداشت ختم

 نصرت بھٹو
نصرت بھٹو خود سے پورے طور پر چل بھی نہیں سکتیں
لاہور کی ایک احتساب عدالت میں پیپلزپارٹی کی سابق سربراہ اورپاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ نصرت بھٹو کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ اپنی یادداشت کھوچکی ہیں اور دماغی طور پر صحت مند نہیں ہیں۔

ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اس کا انکشاف نصرت بھٹو کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کے الزام پر مبنی ایک ریفرنس کی سماعت کے موقع پر لاہور میں ایک احتساب عدالت میں کیا۔

وکیل نے کہا کہ نصرت بھٹو کی عمر چھہتر سال سے زائد ہے اور وہ اتنی بیمار ہیں کہ خود سے کھانا بھی نہیں کھا سکتیں انہیں ملازم کھانا کھلاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نصرت بھٹو خود سے پورے طور پر چل بھی نہیں سکتیں اور اگر چلتے ہوئے گر جائیں تو انہیں یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ انہیں کہاں چوٹ لگی ہے۔ وکیل نے کہا کہ معلوم نہیں کہ نصرت بھٹو زندہ کیسے ہیں؟

نصرت بھٹو پر قومی احتساب بیورو کی جانب سے برطانیہ، فرانس اور سوئزرلینڈ میں ڈیڑھ ارب امریکی ڈالرز (سو ارب روپے سے زیادہ) کےغیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں ایک ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔ احتساب عدالت نے نصرت بھٹو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور دانستہ روپوشی کے الزام میں انہیں اٹھارہ نومبر سنہ دو ہزار کو دو سال قید اور جائیداد کی ضبطی کی سزا سنائی تھی۔

پانچ سال بعد احتساب عدالت کے جج رانا زاہد محمود نے اس ریفرنس کی دوبارہ سماعت شروع کردی ہے۔

بے نظیر بھٹو کے وکیل فاروق نائیک اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک اور سینئر وکیل میاں جہانگیر بدھ کو احتساب عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت سے کہا کہ نصرت بھٹو کی حالت تو ایسی خراب ہے کہ وہ اپنے وکالت نامہ بھی دستخط نہیں کرسکتیں۔ ان دونوں وکیلوں نے اپنے وکالت نامے پیش نہیں کیے۔

احتساب عدالت نے نصرت بھٹو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور دانستہ روپوشی کے الزام میں انہیں اٹھارہ نومبر سنہ دو ہزار کو دو سال قید اور جائداد کی ضبطی کی سزا سنائی تھی۔

فاروق نائک نے احتساب جج کے سامنے ضابطہ فوجدای کی مختلف دفعات کے حوالے دیے اور کہا کہ کہ جو ملزم ذہنی طور پر صحت مند نہ ہو اسے کے خلاف کاروائی نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ عدالت دبئی ڈاکٹر بھیج کر نصرت بھٹو کی بیماری کی تصدیق کراسکتی ہے۔

وکیل نے کہا کہ نصرت بھٹو کو دانستہ روپوشی کی سزا بھی نہیں دی جاسکتی تھی کیونکہ اس وقت ان کے وکیل نے ان کی بیماری کا سرٹیفکٹ عدالت میں پیش کیا تھا۔

عدالت نے اس معاملہ پر قومی احتساب بیورو (نیب) کا موقف جاننے کے لیے مقدمہ کی سماعت آٹھ نومبر تک ملتوی کردی۔

احتساب جج نے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب محمد الیاس سے کہا تھا کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ نصرت بھو کی جائیداد کی ضبطی کا جو حکم دیا گیا تھا تو کیا وہ ضبط کی گئی یا نہیں، اس کی کیا صورتحال ہے؟۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد