BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان جانے والوں کا انتظار

قبائلی علاقے میں واقع ایک گھر کا منظر
کئی نوجوان انتہا پسندوں کے بہکاوے میں آ کر افغانستان گئے

افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے لئے امریکی فوجی کاروائی کو دو برس سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے۔ پاکستان کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں سے بڑی تعداد میں نوجوان بقول ان کے دفاع کے لئے افغانستان گئے لیکن لوٹے نہیں۔ ایسے ہی تقریبا بیس افراد کی واپسی کا انتظار قبائلی علاقے ملاکنڈ ڈویژن کے ایک چھوٹے سے گاؤں ڈیری اللہ ڈھنڈ کی باسی بھی کر رہے ہیں۔

دو برس پہلے گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکی فوجی کاروائی کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر پاکستان کے قدامت پسند قبائلی علاقوں میں مذہبی عناصر کے کہنے پر سینکڑوں افراد نے امریکیوں کا خالی ہاتھوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ وہ سرحد پار کر کے افغانستان میں داخل ہوئے جہاں پر ہر ایک کے ساتھ پیش آنے والے واقعات خود داستاں بن گئے۔

ان افراد میں سے چند خوش قسمت ہی واپس لوٹ سکے، کئی ہلاک ہوئے، کچھ گرفتار ہوکر افغانستان اور کیوبا کے قیدخانوں تک پہنچے جبکہ ایک بڑی تعداد لاپتہ ہو گئی۔

ملاکنڈ ڈویژن کا پہاڑی گاؤں ڈیری اللہ ڈھنڈ اپنے محل و وقوع کی وجہ سے کافی سرسبز اور دلکش ہے۔ تھوڑی بہت زراعت ہی یہاں کا بڑا ذریعہ معاش ہے۔ چند لوگ سرکاری یا نجی اداروں میں ملازمت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں گزر اوقات کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں۔

یہاں سے بھی افغان جنگ میں شرکت کے لئے پچیس سے زائد نوجوانوں نے اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر افغانستان کا رخ کیا۔ ان میں سے شاہ محمد جیسے تو کیوبا سے ہوتے ہوئے واپس آچکے ہیں لیکن محمد طارق جیسے ابھی بھی وہیں قید ہیں۔

محمد طارق واپڈا میں ملازمت کرتا تھا۔ وہ بھی دو برس پہلے گھر والوں کی اجازت کے بغیر باجوڑ کے راستے افغانستان میں داخل ہوا اور چھ ماہ تک لاپتہ رہا۔ بعد میں ریڈ کراس کے ذریعے اس کا ایک خط اس کے اہل خانہ کو ملا جس سے انہیں معلوم ہوا کہ وہ گوانتاموبے، کیوبا میں ہے۔

اس کے چچا محمد صابر نے بتایا کہ اس کی والدہ آج بھی اس کی راہ تک رہی اور روتی ہے۔ ’ان پر سخت وقت گزر رہا ہے۔ ہمیں آج بھی نہیں معلوم کہ وہ کب واپس آئے گا۔ ہم سب انتظار میں ہیں۔‘

محمد صابر جو خود ایک سکول میں استاد ہیں کہتے ہیں ’گاؤں میں جن کے بھائی بیٹے قید یا لاپتہ ہیں ان پر قیامت صغرا گز رہی ہے۔ ان کا حال وہ خود ہی جانتے ہیں اور کوئی نہیں۔‘

اس نے بتایا کہ انہوں نے ان نوجوانوں کو روکنے کی بڑی کوشش کی لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ’ہم نے طارق کو روکنے کے لئے سرحد تک دوڑ بھی لگائی لیکن ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی وہ افغانستان داخل ہوچکا تھا۔‘

مبصرین کے خیال میں اس علاقے کی پسماندگی ہی یہاں کے لوگوں کو انتہا پسندی پر مائل کرتی ہے۔ بلٹ خیلہ کے ایک صحافی ذاکر حسین کا کہنا تھا کہ تعلیم کی کمی، غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے یہ لوگ آسانی سے بہکاوے میں آجاتے ہیں۔

اس علاقے میں ڈیری اللہ ڈھنڈ صرف واحد گاؤں نہیں جو اپنے بیٹوں اور بھائیوں کی جدائی کے کرب سے گزر رہا ہے۔ ایسے کئی اور گاؤں ہیں جہاں کا نقصان اس سے بھی کئی گنا ذیادہ ہے۔ لیکن ان دیہات کے لوگوں نے ہمت نہیں ہاری اور اب بھی ان کے اپنوں کی واپسی کی راہ تک رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد