BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملا عبیداللہ کی گرفتاری پر ابہام

قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے کچھ افغانیوں کو گرفتار کیا ہے
بلوچستان میں مشتبہ طالبان کے ایک اہم رہنما کی گرفتاری کی خبر تین روز سے گردش کررہی ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے ابہام پایا جاتا ہے۔

جمعہ کو طالبان کے سابق وزیر دفاع ملا عبیداللہ اخوند کی گرفتاری کی متضاد اطلاعات گردش میں ہیں۔

پیر کے روز سے ایسی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوئیں تھیں کہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے کچھ افغانیوں کو گرفتار کیا ہے جن میں مشتبہ طالبان کے ایک اہم رہنما شامل ہیں۔

اس روز پولیس نے مسجد روڈ سے ایک ہوٹل سے کچھ افغانیوں کو فارن ایکٹ کے تحت گرفتار کیا تھا جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ہوسکتا ہے یہ لوگ طالبان کے حامی ہوں لیکن ان میں طالبان یا طالبان کا کوئی رہنما شامل نہیں ہے۔

پولیس نے کہا تھا کہ یہ گرفتاریاں جرائم میں ملوث افراد کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں۔

بلوچستان پولیس کی تردید
 بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس طارق کھوسہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوئی گرفتاری یہاں بلوچستان میں نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان سے دیگر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے بھی رابطے کیے ہیں اور انہوں نے اس کی تردید کی ہے۔
جمعرات کے روز یہ خبر گردش کرنے لگی کہ طالبان کے کچھ رہنماؤں کو پاکستان میں کہیں گرفتار کیا گیا ہے اور زیادہ امکان یہ ظاہر کیا جاتا رہا کہ یہ گرفتاری بلوچستان میں کہیں کی گئی ہے۔ اس کے بعد طالبان دور کے سابق وزیر دفاع ملا عبیداللہ اخوند کا نام لیا گیا کہ انہیں کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے رابطے کیے تو سب نے اس کی تردید کی ہے۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس طارق کھوسہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوئی گرفتاری یہاں بلوچستان میں نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان سے دیگر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے بھی رابطے کیے ہیں اور انہوں نے اس کی تردید کی ہے۔

اس کے علاوہ محکمہ داخلہ کے حکام نے بھی اس اہم گرفتاری کی بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اس طرح کی گرفتاری کی گئی ہوتی تو انہیں معلوم ہوتا۔

ماضی میں جب اس طرح کی کوئی نمایاں شخصیات کو گرفتار کر لیا جاتا تھا تو اس کی تصدیق یہیں کوئٹہ میں ہوجاتی تھی لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے جب بھی اس طرح کی کوئی گرفتاری کی گئی ہے تو اس کی تصدیق کوئٹہ میں نہیں کی گئی بلکہ اسلام آباد میں وزارت داخلہ یا وزارت اطلاعات کے حکام نے کی ہے۔

لیکن اس مرتبہ نہ تو کوئٹہ میں اور نہ ہی اسلام آباد میں حکام اس کی تصدیق کر رہے ہیں کہ ملا عبیداللہ اخوند گرفتار ہوئے ہیں یا نہیں۔

طالبان (فائل فوٹو)طالبان کی تردید
’آواز ڈاکٹر حنیف کی نہیں ہے‘
گلبدین حکمت یاررودادِ میران شاہ
حکمت یار کے پوسٹر اور طالبان کی چہل پہل
طالبانطالبان کی واپسی
ایک کمانڈر کےساتھ بی بی سی صحافی کا سفر
ہارون رشیددورۂ جنوبی وزیرستان
فورسز کے حملے کا نشانہ بننے والے علاقے کا دورہ
طالبانطالبان کے ساتھ
ہارون رشید کا طالبان کے سات سفر کا قصہ
ملزمانواقعی طالبان؟
کوئٹہ میں گرفتار مشتہ افراد کون ہیں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد