BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 March, 2007, 02:47 GMT 07:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا پاکستان پر دباؤ بڑھ رہا ہے؟
ڈک چینی اور صدر مشرف
ڈک چینی نے پاکستان حکومت سے دہشت گردی ختم کرنے کے لیے مزید تعاون کے لیے کہا
اس ہفتے امریکی نائب صدر ڈک چینی کے پاکستان کے مختصر دورے کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں آتا رہا ہے کہ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف پر افغان سرحد کے ساتھ قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں اضافے کے لیے شدید دباؤ ڈالا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار بابرا پلیٹ کہتی ہیں کہ اِس بڑھتے امریکی دباؤ پر پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز نظر آ رہا ہے۔

امریکی نائب صدر ڈک چینی کے دورے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کے دفتر سے ایک خاصہ تلخ بیان جاری کیا گیا جس کی جھنجلاہٹ کی گونج پاکستان کے اخباروں میں بھی محسوس کی گئی۔

مبصرین اس بات پر تو اتفاق کرتے ہیں کہ افغانستان میں بڑھتی مزاحمت کے لیے پاکستان کو کسی حد تک مورد الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے اور یہ کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے دوبارہ منظم ہونے پر امریکہ کی تشویش بھی درست ہے لیکن کئی مبصرین صدر جنرل پرویز مشرف کے اِس دعوے سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ سرحدوں کی نگرا نی کے لیے ان سے جتنا ہوسکتا تھا انہوں نے کیا ہے اور یہ کہ افغانستان میں عسکریت پسندوں سے جنگ کے لیے بین الاقوامی برادری اجتماعی طور پر ذمہ دار ہے۔

ڈک چینی اور حامد کرزئی
ڈک چینی پاکستان کے اچانک دورے کے فوراً بعد افغانستان چلے گئے
انکا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ پہلے خود اپنی غلطیوں کا ازالہ کرے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ نیٹو افواج افغانستان کی تعمیر نو میں ناکام رہی ہیں اور افعان حکومت ملک کا کنٹرول سنبھالنے میں ناکام ہے۔ کئی ایسے جنگجو سردار جنہوں نے ایک لمبے عرصے سے جاری خانہ جنگی میں طاقت کا غلط استعمال کیا تھا اب وہ مغرب کے اتحادی ہیں۔

ذرائع ابلاغ میں یہ بھی آیا ہے کہ افغانستان میں نیٹوں فوجی کی کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کی وجہ سے مقامی طور پر طالبان کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں یہ اندیشہ پایا جاتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف مزید کوششیں کرنے کے امریکی حکم کا مطلب علاقے میں مبینہ ٹریننگ کیمپوں پر فضائی حملے کرنا ہے۔

پاکستان میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ماضی میں اِس طرح کے حملوں کا نتیجہ پاکستان میں خود کش بم حملوں کے ایک سلسلہ کی شکل میں سامنے آیا تھا اور اس کے علاوہ طالبان نواز گروہوں کی بھرتی میں اضافہ بھی ہوا تھا۔ اور یہ کہ مزید حملوں کا بھی یہی نتیجہ نکلے گا۔

اسی بارے میں
خود کش دھماکے میں نو ہلاک
27 February, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد