سابق طالبان وزیرِ دفاع کوئٹہ سے ’گرفتار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق پاکستان نے طالبان کے سابق وزیر دفاع ملا عبید اللہ اخوند کو گرفتار کرلیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے پاکستان کے انٹیلیجنس افسروں کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ کوئٹے میں اس ہفتے کے شروع میں ایک مکان پر چھاپہ مارا گیا تھا جس میں ان کے علاوہ پانچ اور مشتبہ طالبان کو پکڑ لیا گیا۔ ملا عبید اللہ اخوند طالبان کے لیڈر ملا عمر کے بہت ہی قریبی ساتھیوں میں ہیں اور طالبان کی معزولی کے بعد یہ سب سے سینیئر رہنما ہیں جن کو گرفتار کیا جاسکا ہے۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے بھی دو پاکستانی اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملا عبید اللہ اخوند کو پیر کے روز، جس دن امریکی نائب صدر ڈک چینی پاکستان کے دورے پر آئے تھے، کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ملا عبید اللہ کو ڈک چینی کے دورے سے پہلے، اس کے دوران یا بعد میں گرفتار کیا گیا۔
اخبار کے مطابق گرفتاری کا موقعہ بہت اہم ہے کیونکہ پاکستان پر طالبان کی بغاوت کو روکنے میں کمزوری کے مظاہرے پر بہت تنقید ہو رہی ہے۔ تاہم خبر رساں ایجنسی اے پی نے سابق افغان وزیرِ دفاع کی گرفتاری کی خبر دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے سینئر اہلکار اور ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے والے یونٹ کے سربراہ بریگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ نے اس کی تردید کی ہے۔ اے پی کے مطابق بلوچستان پولیس کے سربراہ طارق کھوسہ نے بھی ملا عبید اللہ اخوند کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ | اسی بارے میں طالبان کے ساتھ وہ دن 25 January, 2007 | پاکستان ڈکٹیشن نہیں لیں گے: دفترِ خارجہ26 February, 2007 | پاکستان ’افغانستان سے اب نہیں جائیں گے‘12 February, 2007 | پاکستان ’اسامہ کو پکڑنا ہماری ترجیح ہے‘28 February, 2006 | پاکستان افغان رپورٹ بے کار اور پرانی ہے: مشرف06 March, 2006 | پاکستان ’رنجش، پاکستانیوں کی وجۂ ہلاکت‘31 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||