BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 February, 2007, 13:22 GMT 18:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان دوبارہ منظم ہو رہے ہیں: چینی

چینی صدر مشرف سے ملاقات کے بعد کابل روانہ ہو گئے
امریکی نائب صدر ڈک چینی نے پیر کو صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات میں طالبان کے دوبارہ منظم ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے متفقہ اقدامات کرنے ضروری ہیں۔

امریکی نائب صدر پیر کو افغانستان جاتے ہوئے چند گھنٹے پاکستان میں رُکے۔ انہوں نے دو گھنٹے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی۔

صدر سے ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ڈک چینی نے طالبان کی جانب سے موسم بہار میں امریکہ اور اتحادی افواج کے خلاف حملوں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات پر سخت تشویش ظاہر کی۔

بیان کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ افغانستان کے اندر شدت پسندی کو شکست دینے کے لیے پوری عالمی برادری پر مشترکہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے بہت زیادہ اقدامات کیے ہیں۔ لیکن ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی سرحد پرایک ہزار چیک پوسٹ قائم کی ہیں اور اسی ہزار فوجی تعینات کیے ہیں۔ جبکہ ان کے بقول دوسری جانب صرف ایک سو چیک پوسٹ ہیں۔

صدر مشرف
 طالبان کی شدت پسندی افغانستان کے اندر سے ہورہی ہے اور اس کا حل بھی اس ملک کے اندر ہی سے نکالنا ہوگا۔ پاکستان طالبان کی شدت پسندی کا خود شکار ہے کیونکہ ان کا قبائلی علاقوں اور پناہ گزینوں کے کیمپوں میں اثر بڑھ رہا ہے۔

صدر نے کہا کہ زیادہ تر طالبان کی شدت پسندی افغانستان کے اندر سے ہورہی ہے اور اس کا حل بھی اس ملک کے اندر ہی نکالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان طالبان کی شدت پسندی کا خود شکار ہے کیونکہ ان کا قبائلی علاقوں اور پناہ گزینوں کے کیمپوں میں اثر بڑھ رہا ہے۔

ایوان صدر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کے متعلق امتیازی قانون سازی پر تشویس ظاہر کی اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کے بارے میں مغربی میڈیا کی جانب سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر نے کہا کہ چوبیس سوکلومیٹر طویل سرحد پر دراندازی روکنے کے لیے نیٹو، اتحادی افواج، پاکستان اور افغانستان حکومتوں کو مشترکہ ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔

صدر نے وزیرستان میں قبائلیوں کے ساتھ معاہدے کا دفاع کیا اور کہا کہ یہ معاہدہ مستقبل کی طرف ایک قدم ہے۔ ان کے مطابق سیاسی اور انتظامی اقدامات سے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کی سرگرمیوں کو روکنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد