BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 February, 2007, 10:44 GMT 15:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابل: مجاہدین کے حق میں بڑا مظاہرہ
مظاہرین کا کہنا تھا مستقبل میں امن کا انحصار معافی دینے یا نہ دینے پر ہے
مظاہرین کا کہنا تھا مستقبل میں امن کا انحصار معافی دینے یا نہ دینے پر ہے
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تقریباً پچیس ہزار افراد نے ان فوجی کمانڈروں اور جنگجوؤں کے لیے عام معافی کے حق میں مظاہرہ کیا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔

مظاہرین نے ان افراد کے لیے عام معافی کی حمایت میں نعرہ بازی کی۔

کابل کا نیشنل سٹیڈیم مظاہرین سے بھرا ہوا تھا اور وہ ان مجاہدین رہنماؤں کے حق میں نعرہ بازی کر رہے تھے جو اسّی کی دہائی میں سوویت یونین کے قبضے کے خلاف لڑے اور بعد میں خانہ جنگی میں حصہ لیا۔

مظاہرین میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے علاوہ سابق مجاہدین کی بڑی تعداد شامل تھی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مجاہدین کے ایک رہنما عبدالرسول سیاف نے کہا ’جو لوگ مجاہدین کے خلاف بات کرتے ہیں وہ اسلام اور اس ملک کے دشمن ہیں۔‘

عبدالرسول سیاف ان کئی کمانڈروں میں سے ایک ہیں جن پر خانہ جنگی کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔

مظاہرین ایسے لوگوں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کر رہے تھے جو ماضی کے جنگجوؤں کے خلاف مقدمے قائم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ حامد کرزئی عام معافی کے حق میں نہیں

انسانی حقوق کی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ مذکورہ جنگجوؤں، جن میں چند افغانستان کی نئی حکومت بھی شامل ہیں، کے خلاف مقدمات چلائے جانے چاہئیں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں افغانستان کی پارلیمان نے مذکورہ افراد کے لیے عام معافی کا ایک بِل منظور کیا لیکن صدر حامد کرزئی کے ترجمان نے بعد میں اشارہ دیا تھا کہ وہ پارلیمان کے اس اقدام کو غیر آئینی سمجھتے ہیں۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس بِل پر شدید تنقید کی ہے۔

جلسے کے بعد نوجوان مظاہرین نے کابل کی سڑکوں اور گلیوں میں مارچ کیا۔ اس موقع پر وہ ’افغانستان کے دشمن مردہ باد‘ ’امریکہ مردہ باد‘ اور ’ملالائی جویا مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ واضح رہے کہ ملالائی جویا پارلیمان کی ان خاتون رکن کا نام ہے جو عبدالرسول سیاف اور مجاہدین کے دیگر بڑے رہنماؤں پر شدید تنقید کے لیے مشہور ہیں۔

بظاہر لگتا ہے کہ جمعہ کے مظاہرے کا مقصد صدر حامد کرزئی پر دباؤ ڈالنا تھا کہ وہ عام معافی کے بِل پر دستخط کر دیں تا کہ اسے قانونی حیثیت حاصل ہو جائے۔

معافی کے حامی
 افغانستان میں عام معافی کے حامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صلح اور باہمی تعلقات میں بہتری کی جانب ایک قدم ہوگا اور اگر عام معافی نہیں دی جاتی تو ملک میں مزید لڑائی ہوگی۔

جمعرات کو حامد کرزئی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ابھی پارلیمان کے مذکورہ بِل کا مسودہ نہیں ملا ہے اور وہ اس پر آئین اور اسلامی قوانین کی روشنی میں فیصلہ کرنے سے قبل مشاورت کریں گے۔

مظاہرے میں حکومت اور پارلیمان کے جن چیدہ چیدہ ارکان نے شرکت کی ان میں عبدالرسول سیاف کے علاوہ ملک کے نائب صدر کریم خلیلی، حامد کرزئی کے سینیئر سکیورٹی مشیر محمد قاسم فہیم، فوج کے ایک چیف آف سٹاف عبدالرشید دوستم، توانائی کے وزیر اسماعیل خان اور سابق صدر برہان الدین ربانی بھی شامل تھے۔

سوویت یونین کے خلاف جنگ مجاہدین کی جنگ میں دس لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ سوویت فوجوں کے انخلاء کے بعد مجاہدین کے مختلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی اور اس کے بعد طالبان کے دور حکومت کے دوران مجموعی طور پر ہزاروں لوگ مارے گئے۔

مجاہدین اور دیگر جنگجوؤں کے درمیان لڑائیوں میں صرف کابل میں اسّی ہزار لوگ مارے گئے تھے۔

گزشتہ ہفتے پارلیمان سے عام معافی کا بِل منظور کرنے والے کچھ ارکان کا اب کہنا ہے کہ جب وہ بِل کے حق میں ووٹ دے رہے تھے اس وقت انہیں معلوم نہیں تھا کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

افغانستان میں عام معافی کے حامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صلح اور باہمی تعلقات میں بہتری کی جانب ایک قدم ہوگا اور اگر عام معافی نہیں دی جاتی تو ملک میں مزید لڑائی ہوگی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ اور افغانستان میں انسانی حقوق کی بڑی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم میں معافی کے فیصلے کا حق صرف ان لوگوں کو ہے جو ان ان جرائم سے متاثر ہوئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد