BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 April, 2007, 23:02 GMT 04:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف حکومت سے رابطوں کی تصدیق

بینظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو نے اپنے انٹرویو میں صدر مشرف کے قریبی ساتھی اور سول سروسز کے افسر طارق عزیز سے رابطے کی تردید یا تصدیق نہیں کی
پاکستان پیپلز پارٹی کی جلاوطن چئر پرسن بے نظیر بھٹو نے مختلف اوقات میں مختلف سطح پر مشرف حکومت سے رابطوں کی تصدیق کی ہے تاہم ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ غیر رسمی رابطے ہیں جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

پاکستان میں بے نظیر بھٹو کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے موقف میں کوئی نئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور پیپلز پارٹی کا آج بھی یہی موقف ہے کہ فوجی آمریت کا کسی صورت ساتھ نہیں دیا جاسکتا اور کوئی بھی باوردی صدر پیپلز پارٹی کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

بےنظیر بھٹو کا یہ بیان پاکستان کے ایک اردو ٹی وی چینل پر پیراور منگل کی درمیانی شب نشر ہوا تھا۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ انٹرویو کے دوران بےنظیرنے بار بار پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہ ان کی صدر مشرف سے آخری بار گفتگو کب ہوئی تھی، کہا کہ ’انہیں بالکل یاد نہیں کہ ان کی جنرل مشرف سے کب بات ہوئی تھی‘۔

بے نظیر کے ترجمان نے کہا کہ اس موقع پر بے نظیر نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے انہیں یہ یاد نہیں کہ ٹی وی کے کمپئرسے ان کی اس سے قبل کب بات ہوئی تھی‘۔

بینظیر بھٹو
’مجھے بالکل یاد نہیں کہ جنرل مشرف سے کب بات ہوئی تھی‘

بے نظیرکے ترجمان نے کہا کہ یہ بات کرکے بے نظیر نے واضح طور پر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ کسی فوجی حکمران کو کتنی کم اہمیت دیتی ہیں۔

بے نظیر بھٹو نے اپنے انٹرویو میں صدر مشرف کے قریبی ساتھی اور سول سروسز کے افسر طارق عزیز سے رابطے کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔

بے نظیر سے جب پوچھا گیا کہ کیا صدر مشرف بغیر وردی کے انہیں منظور ہونگے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتیں کیونکہ ایک تو ان کے سامنے باضابطہ طور پر ایسی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی اور دوسرا یہ کہ اس کا فیصلہ وہ نہیں بلکہ ان کی پارٹی کرے گی۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلے ہی بےنظیر اور صدر مشرف کے درمیان کسی مفاہمت کی افواہیں گرم ہیں اور بعض حکومتی وزیرکھل کر پیپلز پارٹی سے حکومت کی بات چیت کا ذکر کررہے ہیں ان حالات میں بے نظیر کا کسی بھی سطح پر حکومت سے رابطوں کی تصدیق ملکی سیاست کی نئی کروٹ کا طرف اشارہ ہے۔

بے نظیر نے اپنے تازہ انٹرویو میں حکمران مسلم لیگ کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ان کی حکومت ملکی معاملات میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔

حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین ہمیشہ سے پیپلز پارٹی سے ڈیل کی تردید کرتے ہیں سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے چونکہ ڈیل کا براہ راست سیاسی نقصان چودھری شجاعت حسین اور ان کے ساتھیوں کو پہنچتا ہے

نواز، مشرف
جو بھی حکومت سے ڈیل کرے گا وہ رسوا ہوگا

اس لیے وہ ڈیل مخالف بات کرتے ہیں حالانکہ حکومت کے ایک دوسرے وزیر شیخ رشید کھلے الفاظ میں اورتواتر کے ساتھ حکومت اور پیپلز پارٹی میں مفاہمت کی بات کررہے ہیں۔

دوسری طرف منگل کو ہی معزول اورجلاوطن وزیراعظم میاں نواز شریف نے مسلم لیگ نواز کی مجلس عاملہ سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے وہ حکومت سے کسی بھی قسم کی ڈیل نہیں کریں گے۔

میاں نواز شریف نےکہا ہے کہ انہوں نے بے نظیر اور مولانا فضل الرحمان سے کہا ہے کہ جو بھی حکومت سے ڈیل کرے گا وہ رسوا ہوگا۔ نواز شریف نے کہا کہ اپوزیشن کے دونوں بڑے دھڑوں کے سربراہوں نے ان کے خیالات سے اتفاق کیا ہے۔

میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں تجویز پیش کی ہے کہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل حکومت مخالف جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد