مشرف بینظیر ڈیل پھر سرخیوں میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قومی اخبارات نے بینظیر بھٹو کی نواز شریف سے ملاقات اور حکومت سے ان کی مبینہ ڈیل کو بہت اہمیت دی ہے۔ انگریزی اخبار ڈان نے دبئی میں بینظیر نواز شریف ملاقات اور بینظیر سے مبینہ حکومتی ڈیل کی خبر کو بہت نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ اخبار نے نیب کے خصوصی سیل کی حالیہ بندش اور بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف انٹرپول کے ذریعے جاری کیے ریڈ وارنٹوں کی واپسی کو مبینہ مشرف بینظیر ڈیل کی بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے۔ ڈان نے امریکی تِھنک ٹینک سٹریٹفور کی اس رپورٹ کو بھی صفحہ اول پر جگہ دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ عدالتی بحران نے حکومت کو پاکستان پیپلز پارٹی مذاکرات کرنے پر مجبور کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فریقین گزشتہ تین سالوں سے خفیہ مذاکرات کر رہے ہیں۔ تاہم رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ ابھی تک یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا یہ ڈیل پایہ تکمیل کو پہنچ سکے گی یا نہیں۔ اردو اخبار نوائے وقت نے بھی نواز بینظیر میٹنگ کی خبر کو شہ سرخی کے طور پر شائع کیا ہے۔ اخبار کے مطابق سابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر ہونے والے ملاقات نے بینظیر بھٹو نے تاحال حکومت سے کسی قسم کی ڈیل سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے حکومت سے رابطے جاری ہیں اور بات چیت پر اے آر ڈی کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ اخبار نے ساتھ ہی صدر مشرف کے ٹیکسلا میں عوامی اجتماع سے خطاب کے حوالے سے یہ سرخی جمائی ہے کہ ’ڈیل کا پروپیگنڈا نہ سنیں‘۔ اپنے خطاب میں صدر مشرف نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اسمبلیاں توڑی نہیں جائیں گے اور انتخابات وقت پر ہوں گے۔ انگریزی اخبار دی نیوز کے مطابق بینظیر کا نواز شریف سے ملاقات کا بنیادی مقصد ان غلط فہمیوں کو دور کرنا تھا جو حکومت سے ان کی مبینہ ڈیل کے خبروں سے پیدا ہوئی ہیں۔ اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار پاکستان ابزرور نے بینظیر نواز ملاقات کے حوالے سے کہا کہ نواز شریف نے بینظیر کی حکومت سے ڈیل کی صورت میں اے آر ڈی چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔ اخبار ڈان نے موجودہ عدالتی بحران کے پس منظر میں صدر پرویز مشرف کی طرف سے ممکنہ طور پر سخت اقدامات اٹھانے کی خبر کو بھی بہت نمایاں طور پر صفحہِ اول پر جگہ دی ہے۔ ’عدالتی بحران کے سلسلے میں قربانی کے بکرے کی تلاش‘ کے سرخی سے چھپنے والے اس خبر میں وزیر اعظم شوکت عزیز کو ممکنہ طور پر ہٹائے جانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ خبر میں صدر مشرف کے بہت قریب سمجھے جانے والے ایک وزیر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ موجودہ عدالتی جنگ ڈاکٹر عبدالقدیر کے معاملے سے سنگین بحران ہے۔ خبر کے مطابق عدالتی بحران کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین کو امریکہ سے اپنا علاج ادھورہ چھوڑ کر وطن واپسی پر مجبور ہونا پڑا۔ | اسی بارے میں ’اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے‘15 January, 2007 | پاکستان اکتوبر، نومبر میں واپسی کی تیاریاں05 February, 2007 | پاکستان مشرف پی پی پی مفاہمت کے اشارے؟ 18 November, 2006 | پاکستان سیاستدانوں سے مفاہمت کا پہلا قدم؟06 April, 2007 | پاکستان آج کا پاکستانی میڈیا کیا کہتا ہے؟12 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||