سیاستدانوں سے مفاہمت کا پہلا قدم؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے سیاستدانوں کی بدعنوانی کی تحقیق کے لیے قائم کیے گئے خصوصی شعبہ کا بند ہونا پاکستان میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کے لیے حکومت کی طرف سے عام معافی کی طرف ایک قدم کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس خصوصی سیل کے بند ہونے سے جنرل پرویز مشرف کی حکومت اور حزب مخالف کے درمیان مصالحت کی قیاس آرائیوں کو ایک نئی زندگی ملی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ بے نظیر سے حکومت کی بات چیت کوارٹر فائنل سے بڑھ کر سیمی فائنل میں داخل ہوچکی ہے اور دو تین دنوں تک نتائج سامنے آجائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر بے نظیر سے حکومت کا معاملہ ہوا تو حکومت کو ’انہیں کچھ تو دینا پڑے گا‘۔ ساتھ ہی ساتھ شیخ رشید مفاہمت اور ڈیل (سودے بازی) میں فرق بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی بے نظیر سے بات چیت مفاہمت کے لیے ہے ڈیل کے لیے نہیں۔
دوسری طرف حکمران جماعت کے صدر چودھری شجاعت حسین حکومت اور بے نظیر بھٹو کے درمیان مفاہمت یا ڈیل سے انکار کر رہے ہیں، البتہ ان کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو کو کچھ ڈھیل دی گئی ہے اور ان کے مطالبہ پر ہی لاہور میں نیب کا خصوصی سیل بند کر کے حسن وسیم افضل کو وہاں سے ہٹایا گیا ہے۔ حسن وسیم افضل ڈی ایم جی سروس کے وہ سینئر افسر ہیں جنہوں نے نواز شریف کے دور اقتدار میں سیف الرحمن کی نگرانی میں قائم کیے گئے احتساب بیورو میں کام کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمات قائم کرنے اور بیرون ممالک ان کے اثاثہ جات کی تحقیق و تلاش کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ یہ سیل ایسے وقت بند کیا گیا ہے جب بے نظیر بھٹو کے خلاف سوئس عدالت میں چلنے والے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہونے والی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں سوئس میجسٹریٹ بے نظیر کے خلاف فیصلہ دے چکے ہیں۔ مشرف حکومت نے بقول شجاعت حسین بے نظیر کو ڈھیل دی ہے تب بھی یہ بات تو ثابت ہے کہ فریقین کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر ایک دوسرے کو جگہ اور رعائتیں دے رہے ہیں۔
تاہم پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیری رحمان نے کسی بھی قسم کی مفاہمت سے انکار کیا ہے، لیکن شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ بات چیت براہ راست بے نظیر سے ہو رہی ہے جس کا پیپلز پارٹی کے دوسرے درجے کے رہنماؤں کو علم نہیں۔ سیاسی مفاہمت کی حقیقت جو بھی ہو نیب کے سیاستدانوں کے بیرون ملک اثاثوں کی تفتیش سے متعلق خصوصی سیل کے بند ہونے سے یہ عندیہ تو ملتا ہے کہ مشرف حکومت حزب مخالف کے سیاستدانوں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی پیروی کا عمل ٹھنڈا کرنا چاہتی ہے۔ سیاستدانوں کی تحقیقات کے بارے میں نیب کا جو سیل بند کیا گیا ہے اس کا اثر صرف بے نظیر نہیں بلکہ تمام سیاستدانوں پر پڑسکتا ہے اور اگر حکومت حزب مخالف کی ایک رہنما کے لیے گنجائش نکالتی ہے تو حزب اختلاف کے دوسرے سیاستدانوں کو بھی کچھ نہ کچھ رعایت ملنے کا امکان پیدا ہوگا۔ جلاوطن سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ(ن) کے سربراہ نواز شریف کی قطر کے حکمرانوں کے ذریعے مشرف حکومت سے بات چیت کی باتیں بھی گردش کر رہی ہیں تاکہ وہ تین سال بعد دس سال کی پابندی ختم ہونے سے پہلے اور عام انتحابات کے موقع پر ملک واپس آسکیں۔ نواز شریف کے قریبی ساتھی سیف الرحمنٰ قطر کے شہزادہ طلال کے پاکستان میں نمائندہ ہیں جن کا ان رابطوں میں کردار اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف اگلے روز گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل خالد مقبول (ریٹائرڈ) بھی دبئی روانہ ہوئے ہیں جن کے اس دورہ کو نواز شریف کی مشرف حکومت سے بات چیت کے پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔ اگر مشرف حکومت دو سیاسی جماعتوں کے قائدین بے نظیر اور نواز شریف کو ملک واپس آ کر عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیتی ہے تو پھر اسے برابری کا تصور قائم رکھنے کے لیے تیسری سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی وطن واپسی کے لیے بھی رعائتیں دینا پڑیں گی۔ انہیں متعدد مقدمات میں فوری طور پر بری نہ بھی کیا جائے تو ان مقدمات میں ان کی ضمانت کی جا سکتی ہے۔ اگر پاکستان میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کے لیے عام معافی کا ماحول بننے جا رہا ہے تو وہ سب اس سال کے آخر تک متوقع عام انتخابات میں شریک ہوسکیں گے اور الیکشن کے منصفانہ ہونے کا تاثر بھی بن سکے گا۔ |
اسی بارے میں ’اگلا نشانہ جنگلات اورٹمبرمافیا‘11 December, 2006 | پاکستان جنرل زاہد علی اکبر کے سمن جاری31 July, 2006 | پاکستان ’یہ بینظیر کی کردار کشی کی مہم ہے‘07 April, 2006 | پاکستان ’حکومت کے با اثر افراد ملوث تھے‘10 May, 2006 | پاکستان زرداری: 15 جون کو عدالت میں پیشی30 May, 2005 | پاکستان 140 ارب روپے کی وصولی، نیب کا دعوٰی09 January, 2004 | پاکستان سوئس جج پاکستان آسکتے ہیں20 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||