سوئس جج پاکستان آسکتے ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل منیر حفیظ نے کہا ہے کہ اگر آصف زرداری سوئٹزر لینڈ نہیں جانا چاہتے تو سوئس جج پاکستان آسکتا ہے۔ پیر کے روز بدعنوانی کے خلاف اقوام متحدہ کے کنوینشن سے متعلق کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت زرداری کو زبردستی سوئٹزر لینڈ نہیں بھیجے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ حکومت کو سوئٹزرلینڈ کے اٹارنی جنرل نے سمن تو تئیس مارچ کو جاری کیا تھا لیکن حکومت نے دیر سے کیوں زرداری کو مطلع کیا؟ تو چیئرمین نیب نے کہا کے بینظیر اور زرداری کے وکلاء سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں اور ان کو اس کا علم تھا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران بتایا کہ حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جس سے زرداری کے دفاع کا حق متاثر ہو۔ جب ان کی توجہ پیپلز پارٹی کے رہنما امین فہیم کے اس بیان کی جانب دلائی گئی جس میں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ حکومت زرداری کو اغوا کرکے لے جانا چاہتی ہے، تو وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اغوا امین فہیم کے آبائی شہر ہالہ سندھ میں ہوتے ہوں گے۔ واضح رہے کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کو سوئس جنرل اٹارنی نے ان کی اپیل کے سلسلے میں بائیس اپریل کو پیش ہونے کے لئے طلب کر رکھا ہے۔ یہ اپیل انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے تحقیقاتی مجسٹریٹ کی جانب سے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ یا کالے دھن کے ایک مقدمے میں گزشتہ سال دی گئی سزا کے خلاف دائر کر رکھی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||