BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 December, 2006, 01:19 GMT 06:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نواز، بے نظیر کو واپس جانے دیں‘

نینا گل
پاکستان کے امیج میں بہتری اگلے برس کے انتخابات کے منصفانہ اور شفاف ہونے میں مضمر ہے: نینا گل
یورپی یونین کے ایک پارلیمانی وفد نے کہا ہےکہ سابق وزرائے اعظم میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو وطن واپس آنے کی اجازت ہونی چاہیےتاکہ پاکستان میں منصفانہ اور شفاف انتخابات یقینی بنائے جاسکیں۔

یورپی یونین کے سات رکنی وفد نے پاکستان میں اپنے ایک ہفتے کے قیام کے دوران اسلام آباد،پشاور،مظفر آباد اور لاہور کا دورہ کیا۔

دورے کے اختتام پر یورپی اراکین پارلیمان نے جمعرات کی شام لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

پارلیمانی وفد نے اپنے دورے کے دوران مرتب کی جانے والی سفارشات سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو آگاہ کیا۔

وفد سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا منصفانہ اور آزاد الیکشن کے لیے نواز شریف اور بے نظیر کو وطن واپس آکر الیکشن میں شامل ہونے کی اجازت ضروری ہے؟یورپی اراکین پارلیمان کے وفد کی سربراہ نینا گل نے کہا کہ ’ہاں اگروہ چاہیں تو انہیں وطن واپس آنے اور الیکشن میں حصہ لینے کی آزادی ہونی چاہیے۔‘

یورپی وفد کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے یکساں مواقع منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کے منصفانہ ہونےکےلیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں امیدواروں اور ووٹروں کو انتخابات میں حصہ لینے رجسڑیشن کروانے میں مکمل آزادی ہو اور سب کو کھیلنےکے لیے ایک جیسا میدان ملے،ذرائع ابلاغ تک برابر کی رسائی بھی اس کا اہم حصہ ہے۔

یورپی یونین کے مبصرین نے اپنے دورےکےدوران پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف،وزیراعظم شوکت عزیز، وزیر خارجہ خورشید قصوری اور الیکشن کمشن کے سربراہ کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں،وکلاء اور دیگر شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔

صدر کا جواز
 صدر جنرل پرویز مشرف سے لاہور میں ہونے والی ملاقات میں صدرجنرل مشرف نے اپنے پاس دو عہدے رکھنے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف موثر انداز میں جنگ کے لیے وہ اپنی پوزیشن کو اتھارٹی کے ساتھ استعمال کرنا چاہتے ہیں
نینا گل

برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی نینا گل نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف سے لاہور میں ہونے والی ملاقات میں صدرجنرل مشرف نے اپنے پاس دو عہدے رکھنے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف موثر انداز میں جنگ کے لیے وہ اپنی پوزیشن کو اتھارٹی کے ساتھ استعمال کرنا چاہتے ہیں تاہم یورپی یونین کے وفد کی سربراہ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ صدر جنرل مشرف اس کی بجائے اس پہلے کے اس بیان پر عملدرآمد کریں گے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ دونوں میں سے ایک عہدہ چھوڑ دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ صدر مشرف سے ہونے والی ملاقات میں قبائلی علاقہ جات فاٹا وغیرہ کے بارے میں بھی تبادلہ خیال ہوا جس میں یورپی وفد نے فاٹا میں دور غلامی کے قواعد ختم کرنے کا معاملہ اٹھایا۔

وفدکی خاتون سربراہ نے کہا کہ ممبران یہ سمجھتے ہیں کہ ان قواعد وضوابط کی موجودگی میں وہ حقوق بھی خطرے میں ہوتےہیں جو عام جدید معاشرے میں دئے جاتے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ قبائلی علاقوں کی پاکستان کے مرکزی سیاسی دھارے میں شمولیت سے انتہاپسندی اور طالبانائزیشن روکنے میں مدد ملےگی۔

نینا گل نے کہا کہ پاکستان کے صدر وزیراعظم وزیر خارجہ پاکستان کے بین الاقوامی امیج میں بہتری کے لیے سنجیدہ نظر آئے تاہم یورپی یونین کے وفد نے واضح کیا کہ امیج میں بہتری اگلے برس کے انتخابات کے منصفانہ اور شفاف ہونے میں مضمر ہے۔

یورپی اراکین پارلیمان نے کہا کہ پاکستان میں چار پانچ برس کےدوران ہونے والی اقتصادی ترقی اپنی جگہ لیکن غربت ایک اہم ایشو ہے جسے ہر صورت کم کرنا ہوگا۔

پارلیمانی وفد کے خیال میں اگلا الیکشن ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے جس کے شفاف اور منصفانہ ہونا بے حد ضروری ہے۔

پارلیمانی وفد نے زلزلہ متاثرہ علاقے کادورہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہاں امدادی تنظیموں کی کارروائیاں قابل ستائش ہیں تاہم وفد کے اراکین کو یہ دیکھ کر تشویش ہوئی تھی کہ متعدد کشمیریوں نے دو سردیاں خیموں میں گذاری ہیں۔وفد نے اس بارے میں صدر پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے اور ان کے بقول صدر مشرف نے معاملہ پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

پشاور میں وفد کے اراکین نے افغان مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ کیا اور ان کیمپوں میں پیدا ہونے والی نسل کے پاکستان کے معاشرےمیں شامل کیے جانے کے امکانات پر انتظامیہ سے گفتگو کی۔

وفد کی سربراہ نینا گل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر مشرف نے جو مسئلہ کشمیر کےحل کے لیےجو چارنکاتی حل پیش کیا ہے اور بھارت کا جوابی مثبت ردعمل ہی تنازعہ کشمیر کے حل کے راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں تجارت کو وسیع کیا جائے تو اس سے بھی تنازعات کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے جیسا کہ یورپ میں بھی کیا گیا ہے۔

یورپی پارلیمانی وفد کے سات میں پانچ اراکین کا تعلق برطانیہ سے ہے ایک جرمنی اور ایک چیک ریپبلک سے تعلق رکھتے ہیں۔

یورپی یونین کے وفد کا دورے کا مقصد پاکستان کو درپیش چلینج کا جائزہ لینا اور یورپی یونین سے اس کے تعلقات کو مزید گہرا کرنا تھا۔

وفد کی سربراہ نے کہا کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ پاکستان نے یورپی یونین کے مبصرین کو پاکستان کے انتخابات جائزہ لینے کی اجازت دیدی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس جائزے میں انتخابات سے پہلےکی صورتحال کو جانچنابھی شامل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد