بینظیر کی ’ڈیل‘ پر نواز کی تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (نواز) کے جلاوطن قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ’میں جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ڈیل کو گالی سمجھتا ہوں۔ ‘ ’عدلیہ پر شب خون مارنے اور عوام کی توہین کرنے والے کے ساتھ کبھی بھی ہاتھ نہیں ملاؤں گا۔ جو میثاق جمہوریت سے انحراف کرے گا وہ ڈوب جائے گا۔‘ ’فوج کو گالی نکالنے والوں کو گولی مارنے کی بات کرنے والا چودھری شجاعت حسین بتائے کہ جو پاکستان کو گالی نکالے، پاکستان کی پارلیمینٹ کو ہائی جیک کرے، اداروں کو تباہ کرے اسے کیا مارنا چاہیے؟‘ نواز شریف نے یہ باتیں سنیچر کی شب مسلم لیگ (نواز) لاہور ڈویژن کے زیرِاہتمام ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے لندن سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کی۔ نواز شریف نے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی قائد بینظیر بھٹو کا نام لیے بغیر مشرف کے ساتھ ڈیل کی ہونے والی بات پر شدید تنقید کی۔ مشرف سے ڈیل کے متعلق بینظیر بھٹو کے بیانات پر حزبِ مخالف کے قائد مولانا فضل الرحمان نے بھی شدید تنقید کی تھی۔
میاں نواز شریف نے، جن کے ساتھ بینظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے ہیں، اپنی جماعت کے اجلاس سے ٹیلیفونک خطاب میں بینظیر بھٹو کا نام لیے بغیر استفسار کیا: ’مشرف قومی مجرم ہے اور کیا قومی مجرموں کے ساتھ ڈیل کی جاتی ہے؟‘ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’نہ میں لیڈر ہوں اور نہ کوئی اور لیڈر ہے بلکہ خود عوام لیڈر ہیں، ہر پاکستانی لیڈر ہے، جس نے ہمیں آمریت کے سامنے ڈٹے رہنے کا حوصلہ دیا اور کہا کہ آمر کے ساتھ ہاتھ نہ ملاؤں۔‘ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اے آر ڈی میں شامل تمام جماعتیں میثاقِ جمہوریت کی پابند ہیں۔ ’میں اور بینظیر اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی بھی میثاق جمہوریت سے انحراف نہیں کرے گا۔ میثاق جمہوریت کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہے اور جو بھی اس سے انحراف کرے گا ڈوب جائے گا۔‘ ان کے مطابق ’میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیاں تو بھول سکتا ہوں لیکن عوام کے ساتھ کی گئی زیادتیاں نہیں بھلا سکتا۔‘ نواز شریف نے کہا کہ مشرف اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، اس لیے آج عوام کو یہ فیصلا کرنا پڑے گا کہ انہوں نے پاکستان کا ساتھ دینا ہے کہ مشرف کا ساتھ دینا ہے؟‘ ’اور جرنیلوں کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے مشرف کے ساتھ کھڑا ہونا ہے کہ پاکستان کے ساتھ؟‘ نواز شریف نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عوام کے محبوب قائدین کو جلاوطن کرنے والے خود پناہ کی تلاش میں ہوں گے۔ نواز شریف نے چوھدری برادران (چوھدری شجاعت اور چودھری پرویز الہٰی) پر شدید غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ ’چودھریوں میں عزت، حیاء اور غیرت نہیں ہے۔ انہوں نے پاکستان کو تباہ کر دیا ہے، عوام ان کو پہچانیں اور ہم سب نے مل کر ان سے پاکستان کو بچانا ہے۔‘ نواز شریف کے مطابق ’اگر ان کا یہ کھیل ختم نہ ہوا تو خدانخواستہ پاکستان کو یہ کھیل ختم کر سکتا ہے۔‘ انہوں نے اپنی جماعت کو ہدایت کی کہ پانچ مئی کو جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری لاہور آئیں تو جماعت کے تمام کارکن ان کے استقبال کے لیے گھروں سے نکل آئیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||