’بینظیر کی ترجیج جمہوریت نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور متحدہ مجلس عمل کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بیظیر بھٹو کو ایسے حالات کی طرف دھکیل دیا گیا کہ اب جمہوریت ان کی ترجیح نہیں ہو سکتی۔ بقول فضل الرحمان کے اب بے نظیر بھٹو کی ترجیح ان کی اپنی ذات، اپنی ذاتی مشکلات اور سہولیات بن گئی ہیں۔ بھارت کے دورے کے بعد سنیچر کو وطن واپسی پر واہگہ بارڈر پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ بینظیر بھٹو کا یہ رویہ نیا نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی جب حکومت سازی کے سلسلے میں ان کی جماعت کے ساتھ بات چیت ہو رہی تھی تب بھی مذاکرات ان کے ذاتی مقدمات کی وجہ سے ٹوٹے تھے ورنہ حکومت سازی کے حوالے سے تو ان سے معاملات طے پا چکے تھے۔ قائد حزب مخالف نے یہ بات بینظیر بھٹو سے منسوب اس بیان کے متعلق صحافیوں کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ ملک میں جمہوریت کی خاطر صدر مشرف سے ڈیل کر کے قربانی دے رہی ہیں۔ حزب مخالف کی ایک جماعت تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے بینظیر بھٹو کے اس بیان پر جمعہ کے روز کہا تھا کہ بینظیر بھٹو کی یہ ڈیل جمہوریت کے لیے قربانی نہیں ہوگی بلکہ اس کے ذریعے جمہوریت کی قربانی دی جائے گی۔ فضل الرحمان کےمطابق ’اگرچہ پیپلز پارٹی کا رویہ مایوس کن ہے پھر بھی ہم اس کو تنہائی کی طرف لے کر جانا نہیں چاہتے ہم پیپلز پارٹی کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔‘ اپنے دورہ بھارت کے حوالہ سے انہوں نے بتایا کہ وہاں ان کی وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات میں جو بات چیت ہوئی یا جو تقاریر ہوئیں ان میں خطے کی تمام صورتحال پر بات کی۔ ’ ہم نے وہاں اس بات کو اجاگر کیا کہ کسی کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ کوئی مسئلہ کسی ایک ملک کا مسئلہ ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کسی ایک ملک کو درپیش مسئلہ پورے خطے کے حالات پر کس قدر اثر انداز ہو رہا ہے، اس لیے پاک ایران بھارت گیس پائپ لائین کے سلسلے میں عالمی دباؤ ہو یا کہ گوادر پورٹ میں چینی سرمایہ کاری پر امریکہ کے تحفظات ہوں، ان تمام معاملات کے لیے چین، پاکستان، ہندوستان اور ایران کو مشترکہ حمکت عملی اختیار کرنی چاہئے۔ قائد حزب مخالف نے کہا کہ انہوں نے بھارت میں امن کے عمل کے سلسلہ میں اپنی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے تجاویز کی تفصیلات نہ پاکستان میں منظر عام پر لائی گئی ہیں اور نہ بھارت میں ایسا کیا گیا ہے۔ فضل الرحمان کے مطابق انہوں نے بھارت میں یہ بات واضح الفاظ میں کہی کہ پاک بھارت مذاکرات اور قیام امن کے سلسلے میں جاری کوششوں کی آخری منزل مسئلہ کشمیر کا حل ہونا چاہیے کیونکہ اگر کشمیر مسئلہ کا کوئی پائیدار حل نہ نکالا گیا تو ان تمام کوششوں پر پانی پھر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ مولانا کے بقول بھارتی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ امن عمل کے سلسلہ کو صرف سارک سطح تک نہیں بلکہ آسیان کی سطح تک بڑھانا چاہیے۔ فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ہونے والی پیش رفت کے متعلق پاکستانی حکام پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ’ یہ اتحاد ہمیں ڈبو دےگا‘22 April, 2007 | پاکستان ’فرقہ پرستی سے سیکولرازم کوخطرہ‘21 April, 2007 | انڈیا انڈیا سے ملاقاتیں ہورہی ہیں،قصوری20 August, 2006 | پاکستان کرزئی کا فضل الرحمان کو خط29 October, 2006 | پاکستان بھارتی موقف میں لچک: فضل الرحمان26 May, 2006 | پاکستان حزب اختلاف کا وفد انڈیا روانہ08 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||