BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 April, 2007, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ یہ اتحاد ہمیں ڈبو دےگا‘

فضل الرحمان
جس ملک کے اپنے ہمسائیوں سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں اس ملک کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے
پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان کہا کہ پاکستان کو نام نہاد عالمی اتحاد سے باہر آنا چاہیے اور ہندوستان سمیت اپنے ہمسائیہ ممالک سے تعلقات استوار کرنا چاہیے۔

قائد حزب اختلاف نے یہ بات ہندوستان جاتے ہوئے لاہور کے واہگہ بارڈر پرانہوں نےذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

مولانا فضل الرحمان پاکستان سے جانے والے جے یوآئی اے کے اٹھائیس رکنی وفد کے سربراہ ہیں جو چوبیس اپریل کو دہلی میں جمعیت علمائے ہند کے سابق امیر مولانا اسعد مدنی کی یاد میں ہونے والے سیمنار میں شرکت کرے گا۔

ہندوستان جانے والے جمعیت علمائے اسلام کے وفد میں چھ اراکین قومی اسمبلی،چار سینیٹر اور صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ اراکین شامل ہیں۔

صوبہ سرحد کے وزیر اعلی اکرم درانی اور وفد کے دیگر پچیس اراکین سنیچر کو ہندوستان پہنچ گئے تھے جبکہ اتوار کی صبح مولانا فضل الرحمان ،سینٹر طلحہ محمود اور مفتی ابرار بھی واہگہ کے راستے دلی چلے گئے۔

 دونوں ملکوں کی بہتری کی لیے کئی تجاویز دی جاسکتی ہیں لیکن جب بھانت بھانت کی تجاویز دی جائیں تو معاملہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔
فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قائم نام نہاد عالمی اتحاد کا پاکستان کو نقصان ہوگا اور اب صدر مشرف بھی کہہ رہے ہیں کہ اتحادی ان کی بات پر یقین نہیں کرتے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’یہ اتحاد ہمیں ڈبو دے گا۔ لہذا ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اپنے پڑوسی ممالک ہندوستان، افغانستان، ایران سے تعلقات بہتر کرکے دوستی استوار کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جس ملک کے اپنے ہمسائیوں سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں اس ملک کو دنیا میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

جب مولانا فضل الرحمان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بھارتی حکام سے ملاقاتیں کرکے دو طرفہ معاملات کی بہتری کے لیے کردار اداکریں گے تو انہوں نے کہا کہ ایسی ملاقاتیں ایجنڈے میں شامل تو نہیں ہیں لیکن اگر موقع ملا تو وہ یہ کردار ضرور ادا کریں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی بہتری کی لیے کئی تجاویز دی جاسکتی ہیں لیکن جب بھانت بھانت کی تجاویز دی جائیں تو معاملہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ ’اس لئے بہتری اسی میں ہے کہ اپنے قومی موقف پر قائم رہتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔‘ انہوں نے کہا تجاویز کا تبادلہ دونوں ملکوں کے حکام آپس میں کریں تو تب ہی بہتر ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان نے بتایا کہ مولانا کی واپسی چھبیس اپریل کو متوقع ہے۔

اسی بارے میں
کرزئی کا فضل الرحمان کو خط
29 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد