حزب اختلاف کا وفد انڈیا روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے چیئرمین مخدوم امین فہیم کی سربراہی میں ایک چھ رکنی پارلیمانی وفد انڈیا روانہ ہوگیا ہے جہاں وہ کئی اہم سرکاری اور غیر سرکاری شخصیات سے ملاقات کے علاوہ انڈین وزیر اعظم من موہن سنگھ سے بھی ملاقات کرے گا۔ پاکستانی وفد میں تین اراکین قومی اسمبلی ایک سینیٹر اور پنجاب اور سندھ کی اسمبلیوں کے قائدین حزب اختلاف بھی شامل ہیں۔ بھارت روانگی سے قبل ایک پریس کانفرنس سے مختصر خطاب کرتے ہوئے وفد کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے اپنے اس دورے کو دونوں ملکوں کے درمیان عوام سے عوام کے تعلق کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم اپنے ہمسایہ ملک کے لیئے امن و محبت کا پیغام لے کر جارہے ہیں تاکہ اپنی اگلی نسل کو بتا سکیں کہ ہم نے اپنے ہمسایہ ملک سے تعلقات کو کس نہج پر لے کر چلنا ہے۔‘ پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے مسئلہ کشمیر کے بارے میں کیئے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ ’ہم حکومت میں آرہے ہیں اور تب ہی ان سوالات کا جواب دیں گے۔‘ تاہم انہو ں نے کہا کہ ’ہم کشمیر کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتے ہیں اور اس کے لیئے دونوں اطراف کے کشمیریوں سے مشاورت ہونا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’موجودہ دورے کے دوران ان کی کسی کشمیری رہنما سے ملاقات طے نہیں ہے‘۔ ایک اور سوال کے جواب میں مخدوم امین فہیم نے کہا کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیئے بھارت سے کوئی سبق لینے نہیں جارہے۔ انہوں نے کہا کہ’ہمارے جو بھی معاملات ہیں وہ ہم اپنے گھر (پاکستان) میں حل کرلیں گے اور اس کے لیئے انہیں کسی سے مدد لینے کی ضرورت نہیں ہے‘۔ وفد کے اراکین پیر کی شام بھارت کے ایوان بالا میں حزب اختلاف کے لیڈر جسونت کے عشائیے میں شرکت کر رہے ہیں جبکہ کل صبح وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد وہ بھارت کے اپوزیشن لیڈر ایل کے اڈوانی کی جانب سے دیئے گئے ایک ظہرانے میں شرکت کریں گے۔ پاکستانی وفد کے شرکاء میں امین فہیم کے علاوہ قاسم ضیاء ،نثار کھوڑو، راجہ اشرف اور سینیٹرانور بیگ بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں جوہری مذاکرات: مثبت ماحول 25 April, 2006 | پاکستان جوہری ہتھیار، پاک انڈیا مذاکرات24 April, 2006 | پاکستان انڈیا پاکستان بات سفارشات پر ختم22 March, 2006 | پاکستان جوہری امور پر پاک بھارت اعتماد سازی06 August, 2005 | پاکستان جوہری امور، پاک بھارت مذاکرات05 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||