بھارتی موقف میں لچک: فضل الرحمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں بھارت کے دیرینہ موقف میں پیش رفت ہوئی ہے، پہلے وہ اسے اپنے ملک کا حصہ اور غیرمتنازعہ اور داخلی معاملہ بتاتا تھا لیکن اب وہ اس کےبارے میں باہمی گفتگو کے لیے تیار ہے۔ وہ جمعرات کو بھارت کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ بھارت کے دورے کے دوران متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ اور حزب اختلاف کے رہنماؤں ایل کے ایڈوانی اور جسونت سنگھ اور کشمیر کمیٹی کے سربراہ رام جیٹھ ملانی سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کے بارے میں مثبت تاثرات کا مظاہرہ کیا ہے اور ہندوستان پاکستان کی مضبوطی کو اپنے مفاد میں سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات پر تیار ہے اور ہندوستان میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں دو طرح کی آراء پائی جاتی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ پاکستان نے کشمیریوں کی سیلف گورننس یا ڈی ملٹرائزیشن کی جو تجاویز دی ہیں انہیں بھارت نے نظر انداز نہیں کیا ہے بلکہ ان کے دورے کے دوران انہیں بتایا گیا کہ ان تجاویز کا اس نقطۂ نظر سے جائزہ لیا جارہا ہے کہ انہیں کس طرح قابل عمل بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اور اپوزیشن کے سیاست دانوں نے اس بات کی یکساں طور پر حمایت کی ہے کہ کشمیر کے ٹھوس حل کی طرف بڑھنا چاہیے لیکن یہ مرحلہ کب آئے گا اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تجارت کی صورت میں پاکستان کی منڈی اور مصنوعات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس بارے میں بھارت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اگر کسی بھی ملک کو اپنی پیداوار یا منڈی کے بارے میں تحفظات ہیں تو انہیں دور کیاجائے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بھارت کا افغانستان میں ان دنوں اچھا اثر ورسوخ ہے اور اس نے کہا کہ وہ پاکستان کی مغربی سرحدوں پر امن قائم کیے رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ ان کا دورہ سرکاری نوعیت کا نہیں تھا، یہ عوام سے عوام سے رابطے کی ایک کڑی تھا۔ اس سے قبل پاکستان میں حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت پیپلز پارٹی پارلینٹرین کے وفد نے مخدوم امین فہیم کی سربراہی میں بھارت کا دورہ کیا تھا۔ |
اسی بارے میں تاج محل: بھارتی وفد لاہور میں25 April, 2006 | پاکستان ایل او سی پر نئی چوکیاں نہیں27 April, 2006 | پاکستان ’تعلقات کشمیر سے جوڑنا غلطی ہے‘02 May, 2006 | پاکستان حزب اختلاف کا وفد انڈیا روانہ08 May, 2006 | پاکستان پی پی پی کا وفد ہندوستان سے واپس10 May, 2006 | پاکستان ’سربجیت سنگھ سے ملنے دیا جائے‘11 May, 2006 | پاکستان سیاستدانوں کے بھارتی دورے17 May, 2006 | پاکستان سیاچن مذاکرات پھر شروع23 May, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||