BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 May, 2006, 01:37 GMT 06:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی موقف میں لچک: فضل الرحمان

فضل الرحمان بھارت کے دورے سے جمعرات کو واپس آئے
پاکستان میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں بھارت کے دیرینہ موقف میں پیش رفت ہوئی ہے، پہلے وہ اسے اپنے ملک کا حصہ اور غیرمتنازعہ اور داخلی معاملہ بتاتا تھا لیکن اب وہ اس کےبارے میں باہمی گفتگو کے لیے تیار ہے۔

وہ جمعرات کو بھارت کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

بھارت کے دورے کے دوران متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ اور حزب اختلاف کے رہنماؤں ایل کے ایڈوانی اور جسونت سنگھ اور کشمیر کمیٹی کے سربراہ رام جیٹھ ملانی سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کے بارے میں مثبت تاثرات کا مظاہرہ کیا ہے اور ہندوستان پاکستان کی مضبوطی کو اپنے مفاد میں سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات پر تیار ہے اور ہندوستان میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں دو طرح کی آراء پائی جاتی ہیں۔
ایک تو یہ کہ معاملہ فوری طور پر حل کیا جائے اور دوسری یہ کہ معاملات کو بہتری کی طرف چلایا جائے۔

کشمیر پر بھارتی موقف
 بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات پر تیار ہے اور ہندوستان میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں دو طرح کی آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ معاملہ فوری طور پر حل کیا جائے اور دوسری یہ کہ معاملات کو بہتری کی طرف چلایا جائے۔
مولانا فضل الرحمان
انہوں نے کہا کہ اب یہ معاملہ کسی فوری ٹھوس حل کے ذریعے ہویا اقدامات کے تسلسل کو جاری رکھا جائے ہندوستان میں اس بارے میں بات ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے موقف میں لچک آجانا کہ وہ اب اس معاملے کو باہمی طور پر حل کرنا چاہتا ہے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ پاکستان نے کشمیریوں کی سیلف گورننس یا ڈی ملٹرائزیشن کی جو تجاویز دی ہیں انہیں بھارت نے نظر انداز نہیں کیا ہے بلکہ ان کے دورے کے دوران انہیں بتایا گیا کہ ان تجاویز کا اس نقطۂ نظر سے جائزہ لیا جارہا ہے کہ انہیں کس طرح قابل عمل بنایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران اور اپوزیشن کے سیاست دانوں نے اس بات کی یکساں طور پر حمایت کی ہے کہ کشمیر کے ٹھوس حل کی طرف بڑھنا چاہیے لیکن یہ مرحلہ کب آئے گا اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ تجارت کی صورت میں پاکستان کی منڈی اور مصنوعات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس بارے میں بھارت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اگر کسی بھی ملک کو اپنی پیداوار یا منڈی کے بارے میں تحفظات ہیں تو انہیں دور کیاجائے گا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بھارت کا افغانستان میں ان دنوں اچھا اثر ورسوخ ہے اور اس نے کہا کہ وہ پاکستان کی مغربی سرحدوں پر امن قائم کیے رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ ان کا دورہ سرکاری نوعیت کا نہیں تھا، یہ عوام سے عوام سے رابطے کی ایک کڑی تھا۔ اس سے قبل پاکستان میں حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت پیپلز پارٹی پارلینٹرین کے وفد نے مخدوم امین فہیم کی سربراہی میں بھارت کا دورہ کیا تھا۔

کشمیرکشمیر پرپتےکی بات
کشمیر: تنازعات اور تضادات کا مجموعہ
شبیر شاہمیرا موقف
ہم نے کشمیر پر مذاکراتی راستہ چنا: شبیر شاہ
نور کلوالکشمیر اور قیدی
شدت پسند، ملزم اور ضمیر کے قیدی
طاہرہوہ جو کبھی نہ لوٹے
لاپتہ ہو جانے والے باپ بیٹوں کا انتظار
فریقین کی شرکت اہم
مذاکرات تینوں فریق کے لیے: میرواعظ
اسی بارے میں
سیاچن مذاکرات پھر شروع
23 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد