’تعلقات کشمیر سے جوڑنا غلطی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں انڈیا کے ہائی کمشنر شیو شنکر مینن نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کو جموں و کشمیر کے حل سے منسلک کرنا غلطی ہوگی۔ شیو شنکر مینن منگل کو لاہور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر وکلاء سے خطاب کررہے تھے جو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جسٹس ریٹائرڈ ملک محمد قیوم کے مطابق کسی بھارتی سفیر کا وکلاء سے پہلا خطاب ہے۔ شیو شنکر مینن نے کہا کہ جموں و کشمیر کے معاملہ پر بھارت نے عملیت پسندانہ، اور عملی حل تلاش کرنے کے لیے رضامندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جموں و کشمیر کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چوبیس مارچ کو امرتسر میں خطاب کے دوران میں وزیراعظم منموہن سنگھ نے تجویز دی تھی کہ ایک قدم بہ قدم طریقہ اختیار کیا جائے اور اپنے زیر انتظام علاقوں میں حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے لوگوں سے گفتگو شروع کی جائے تاکہ دونوں طرف لوگ باوقار زندگی گزار سکیں۔ شیوشنکر مینن نے بھارتی وزیراعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ من موہن سنگھ نے اکثر یہ بات کہی ہے کہ سرحدیں دوبارہ نہیں کھینچیں جاسکتیں لیکن ’ ہم ان سرحدوں کو بے معنی اور صرف نقشہ پر کھنچی لکیروں تک محدود کرنے کے لیئے مل کر کام کرسکتے ہیں‘۔ بھارتی ہائی کمشنر نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف عوام کو ایک دوسری طرف آزادی سے آنے جانے اور تجارت کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ہونے کے لیے دہشت گردی کو کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت ہے جیسا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم منموہن سنگھ میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا۔ بھارتی سفیر نے کہا کہ بدقسمتی سے سرحد پار دہشت گردی کو کچلنے کے لیے ابھی اور اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دراندازی کے انداز اور طریقوں میں کچھ تبدیلیوں کے باجود دہشت گردی کی تربیت، کمیونیکیشن اور امداد جاری ہے جو موسموں اور سیاسی فضا کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اکتوبر کے زلزلہ کے بعد دہشت گرد تنطیمیں عوام میں فعال ہوگئیں اور زلزلہ زدگان کی بحالی کے عمل میں شریک ہوئیں۔ شیوشنکر مینن نے کہا کہ یہ ایک انتہا پنسدانہ اور جزوی نقطہ نظر ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دیگر اقدامات کو جاری رکھنے یا بامعنی بنانے کے لیئے بھارت کو جموں و کشمیر کے مسئلے کو لازمی حل کرنا ہوگا۔ بھارتی ہائی کمشنر نے کہا کہ اس کی بجائے ہمیں دونوں کام ساتھ ساتھ کرنے چاہئیں یعنی حل بھی تلاش کریں اور تعلقات بھی معمول پر لائیں۔ انہوں نے کہا کہ آئیے قدم بہ قدم چلیں تاکہ ایسا ماحول بنے جس میں ہم آگے بڑھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک پرانی کہاوت ہے ’سڑک چلنے سے بنتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر میں سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کر رہا ہے اور ان سے بھی کررہا ہے جو منتخب نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی جمہوریت لے آئے اور ہم دونوں اطراف کے کشمیریوں کو کام کرنے دیں۔ انہوں نے کہاکہ چھ جنوی سنہ دو ہزار چار میں جامع مذاکرات شروع ہونے کے بعد سے اب تک دونوں ملکوں کے درمیان مجموعی تعلقات میں زبردست تبدیلی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں معاشروں کے درمیان اس وقت جو فضا اور رابطے ہیں ان کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے ایٹمی اور روایتی ہتھیاروں میں اعتماد سازی کے اقدامات پر اتفاق کیا ہے جیسے بیلسٹک مزائل کے تجربہ سے پہلے ایک دوسرے کو اطلاع دینا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک ایٹمی حادثہ کے خطرات کو کم کرنے کے اقدامات پر بھی بات چیت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اعتماد ہے کہ ہم سرکریک اور سیاچن پر بامعنی معاہدے کر سکتے ہیں۔ بھارتی ہائی کمشنر نے مذاکراتی عمل کی ایک اور کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں نےتجارت اور سفر کے رابطے بحال کرلیے ہیں اور باہمی تجارت کا انفراسٹرکچر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار تین اور چار میں دونوں ملکوں کی باہمی تجارت تین سو چوالیس امریکی ڈالر تھی جو اب دگنی سے زیادہ ہوچکی ہے اور سنہ دو ہزار پانچ اور چھ میں آٹھ سو ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور مزید بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہ دونوں ملک ایک بحری تجارت کے ترمیمی سمجھوتہ پر دستحط کرنے والے ہیں جس سے کراچی اور ممبئی کے درمیان بحری راستے سے کسی بھی ملک کے جہاز کے ذریعے سامان کی تجارت کی اجازت ہوگی۔ انہو ں نے کہا کہ بھارت کھوکراپار اور مناباؤ کے درمیان واہگہ اور اٹاری جیسا ریل کے ذریعے سامان کی ترسیل کا رابطہ قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ عام شہریوں اور کاروباری حضرات کے لیے ویزوں کا اجراء کو آزادانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتیں ویزوں کے اجرا پر انیس سو چوہتر کے سمجھوتہ کی ترمیم پر بھی بات چیت کررہی ہیں۔بھارتی ہائی کمشنر نے کہا کہ ویزوں کے آزادانہ اجراء سے متعلق بھارت نے اپنی تجاویز پاکستان حکومت کے دے دی ہیں اور اب اس کے جواب کا انتظار ہے۔ | اسی بارے میں بحری تجارت کے معاہدے پر اتفاق29 March, 2006 | پاکستان ’تمام گروہوں سے بات پر تیار ہیں‘ 31 March, 2006 | پاکستان انڈو پاک تجارت: چاولوں پر اتفاق28 March, 2006 | پاکستان پاک بھارت: تجارتی امور پر بات چیت28 March, 2006 | پاکستان زیرو پوائنٹ پرسٹیشن کی تجویز 08 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||