پاک بھارت: تجارتی امور پر بات چیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کے ’فریم ورک‘ کے تحت تجارتی امور پر دو روزہ بات چیت منگل کواسلام آباد میں شروع ہوگئی ہے۔ وفود کی سطح پر ہونے والی اس بات چیت میں بھارتی وفد کی قیادت سیکریٹری تجارت ایس این مینن جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت ان کے ہم منصب آصف شاہ کر رہے ہیں۔ اس بات چیت کا بنیادی مقصد دوطرفہ تجارت بڑھانے اور ایک دوسرے کو تجارتی سہولیات دینا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک زمینی، فضائی اور سمندری ذرائع سے تجارت شروع کرنے، کسٹم ڈیوٹی اور تجارتی پابندیاں نرم کرنے، کاروباری افراد کو ویزہ کی سہولیات دینے اور جنوبی ایشیا میں آزادانہ تجارت کے فروغ سمیت مختلف موضوعات پر بات چیت ہوگی۔ بھارت نے پاکستان کو ’موسٹ فیورڈ نیشن‘ یعنی ’ایم ایف این‘ کا درجہ دے رکھا ہے جبکہ پاکستان نے انہیں یہ درجہ تاحال نہیں دیا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ انہیں ’ایم ایف این‘ کا درجہ تو بھارت نے دے رکھا ہے لیکن تجارتی پابندیاں اتنی ہیں کہ تجارت فروغ نہیں پا رہی۔ دونوں ممالک کا دنیا کے ساتھ سالانہ تجارتی حجم تو دو ارب ڈالر ہے لیکن دو طرفہ تجارت صرف تیس کروڑ ڈالر ہے اور اس میں بھی توازن نہیں ہے اور دو طرفہ تجارت میں بھارت کا پلڑا بھاری ہے۔ پاکستان کہتا ہے کہ کشمیر کا تنازعہ حل ہونے تک کھل کر اعتماد کے ساتھ تجارتی معاملات آگے نہیں بڑھ پائیں گے جبکہ بھارت کہتا ہے کہ تجارتی فروغ ہی دونوں ممالک میں بھروسے اور اعتماد کو پختہ کرے گا۔ بھارت کی اس وقت خواہش ہے کہ پاکستان اسےافغانستان، ایران اور وسطی ایشیا تک تجارت کے لیے زمینی راستہ فراہم کرے تاکہ وہ ’ٹرانزٹ ٹریڈ‘ بڑھائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک تجارت بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کو سہولیات دینے میں اب سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم اس بات چیت کے نتائج کے بارے میں فی الوقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا اور اصل صورت حال تو بدھ کومشترکہ بیان کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ | اسی بارے میں پاک بھارت تجارت کے فروغ پر اتفاق27 March, 2006 | پاکستان آزادانہ تجارت پر اتفاق03 January, 2004 | پاکستان تجارتی مذاکرات ’بے نتیجہ‘12 August, 2004 | پاکستان ’ آزادانہ تجارت کو فروغ ملے گا‘23 November, 2004 | پاکستان بھارت سے کئی اشیاء کی درآمد منظور03 May, 2005 | پاکستان تجارت میں دس گنااضافےکی امید25 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||