| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
آزادانہ تجارت پر اتفاق
سارک ملکوں کے وزرائے خارجہ نے جمعہ کے روز انسداد دہشت گردی کے اضافی پروٹوکول اور جنوبی ایشیائی ملکو ں کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدہ سیفٹا پر دستخط کرنے پر اتفاق رائے کیا۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ یشوت سنہا نےایک اخباری کانفرنس کے دوران معاہدے کے بارے میں بتایا کہ ’جب ہم دہلی سے نکلے تھے تو ہمیں اس کی توقع نہیں تھی‘۔ ہندوستان کے سیکرٹری خارجہ ششانک نے ان دو معاہدوں کو تاریخی کامیابی قرار دیا ۔ بارہویں سارک سراہ کانفرنس کے موقع پر جمعہ کے روز جنوبی ایشیائی تنظیم کے سات ملکوں کے وزرائے خارجہ کے دو اجلاس ہوئے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے بتایا کہ وزراء کی بات چیت میں علاقائی تعاون کے لیے تعاون اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا جذبہ موجود رہا۔ پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ تمام وزرائے خارجہ نے پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری پر اعتماد کا اظہار کیا اور پاکستان کی مہمان نوازی اور سارک سربراہ کانفرنس کے لیے شاندار اقدامات کی تعریف کی۔ ترجمان کے مطابق سارک کے سوشل چارٹر پر سربراہ کانفرنس میں دستخط کرنے پر اتفاق کیا گیا اور اس کے علاوہ ایک اسٹینڈنگ کمیٹی نے سارک کے انسداد دہشت گردی کے اضافی پروٹوکول کے متن کو حتمی شکل دی۔ ترجمان کے مطابق اسٹینڈنگ کمیٹی نے آزاد تجارت کے معاہدے سیفٹا کا متن بھی تیار کرلیا ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ سارک کے وزرائے خارجہ ان معاہدوں پر سربراہ کانفرنس میں دستخط کر سکتے ہیں۔ سارک کے وزراء کی کونسل نے سارک کے خوراک کے ذخائر کے بچاؤ پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ اس ضمن میں سارک کے ملکوں میں بھوک اور غربت ختم کرنے کی نئی تجاویز پر بات کی گئی۔ غربت کے خاتمہ پر بنائے گئے کمیشن نے بھی جنوبی ایشیا میں غربت کے خاتمہ پر جامع حکمت عملی بنانے کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔ وزرائے خارجہ نے اس رپورٹ کی منظوری دی اور کہا کہ سارک ملکوں کے وزرائے خزانہ غربت کے خاتمہ کے لیے قریبی رابطہ رکھیں گے۔ وزرائے خارجہ نے سارک یوتھ ایوارڈ برائے دو ہزار دو مثل خان کو دینے کا فیصلہ کیا جنہوں نے گندے پانی اور اس کے زمین پر اثرات پر تحقیق کی ہے۔ ترجمان کے مطابق وزراء نے سارک کے لیے اقوام متحدہ میں آبزرور کے طور پر کام کرنے کے معاملہ پر بھی بات کی اور سارک ممالک کے عالمی اداروں میں قریبی تعاون کے طریقوں پر بحث کی۔ جنوبی ایشیائی ملکوں کے درمیان آزادانہ تجارت کےمعاہد سیفٹا کو تاریخی کامیابی قرار دیا جارہا ہے جس پر عمل درآمد دو ہزار چھ سے شروع ہوگا تاہم بنگلہ دیش کے اعتراضات دور کرنے کے لیے اس تاریخ کو دو ہزار نو تک بڑھانے کی شق رکھی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||