انڈو پاک تجارت: چاولوں پر اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت نے اپنے اپنے باسمتی چاول کے برینڈ عالمی طور پر رجسٹر کرانے اور آئندہ حاصل کردہ مخصوص ناموں کے ساتھ چاول دنیا میں فروخت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ بات دونوں ممالک کے تجارت کے سکریٹریوں نے پہلے روز کی بات چیت کے اختتام پر صحافیوں کو بتائی۔ بھارت کے سکریٹری تجارت ایس این مینن نے کہا کہ باسمتی چاول دونوں ممالک میں پیدا ہوتے ہیں اور عالمی طور پر یہ اہم معاملہ ہے کہ ان کے لیے ’برانڈ نیم‘ حاصل کریں۔ انہوں نے پاکستان کو چائے درآمد کرنے کی بھی پیشکش کی۔ جس پر پاکستان کے سکریٹری تجارت سید آصف شاہ نے کہا کہ بھارت اگر دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت کم قیمت پر چائے بیچے گا تو یقیناً کاروباری افراد ان کو ترجیح دیں گے۔ واضح رہے کہ بھارت دنیا کا زیادہ چائے پیدا کرنے والا ملک ہے جبکہ پاکستان چائے استعمال کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ جبکہ پاکستان ہر سال بائیس لاکھ ٹن چاول برآمد کرتا ہے جس میں آٹھ لاکھ ٹن باسمتی چاول بھی شامل ہیں۔ امریکہ نے انیس سو ستانوے میں اپنے باسمتی چاولوں کے تین نمونے رجسٹر کرائے تھے۔ جنوبی ایشیا میں چاول کا کاروبار کرنے والے کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے برآمد کردہ چاولوں کو دوسرے ممالک اپنے ناموں سے بیچتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے نمائندوں میں زمینی، فضائی اور سمندری ذرائع سے تجارت شروع کرنے، کسٹم ڈیوٹی اور تجارتی پابندیاں نرم کرنے، کاروباری افراد کو ویزہ کی سہولیات دینے اور جنوبی ایشیا میں آزادانہ تجارت کے فروغ سمیت مختلف موضوعات پر بات چیت ہوگی۔
دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات کے تحت دو روزہ تجارتی امور پر بات چیت منگل کے روز شروع ہوئی اور بدھ کے روز اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہوگا۔ بھارت نے پاکستان کو ’موسٹ فیورڈ نیشن‘ یعنی ’ایم ایف این‘ کا درجہ دے رکھا ہے جبکہ پاکستان نے انہیں یہ درجہ تاحال نہیں دیا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ انہیں بھارت نے یہ درجہ تو دے رکھا ہے لیکن تجارتی پابندیاں اتنی ہیں کہ تجارت فروغ نہیں پا رہی۔ دونوں ممالک کا دنیا کے ساتھ سالانہ تجارتی حُجم تو دو سو ارب ڈالر ہے لیکن دو طرفہ تجارت صرف تیس کروڑ ڈالر ہے اور اس میں بھی توازن نہیں ہے اور پلڑا بھارت کا ہی بھاری ہے۔ پاکستان کہتا ہے کہ کشمیر کا تنازع حل ہونے تک کھل کر اعتماد کے ساتھ تجارتی معاملات آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔ جبکہ بھارت کہتا ہے کہ تجارتی فروغ ہی دونوں ممالک میں بھروسے اور اعتماد کو پختہ کرے گا۔ بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان اسے افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا تک تجارت کے لیے زمینی راستہ فراہم کرے تاکہ وہ ’ٹرانزٹ ٹریڈ‘ بڑھائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک تجارت بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کو سہولیات دینے میں اب سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اس بات چیت کے نتائج کے بارے میں فی الوقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا اور اصل صورتحال بدھ کے روز مشترکہ بیان کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ | اسی بارے میں ’مسئلے کا حل ہمارے عہد میں‘10 September, 2005 | پاکستان ’من موہن کی تقریر مثبت ہے‘24 March, 2006 | پاکستان منموہن کی امن معاہدے کی تجویز24 March, 2006 | پاکستان خطے میں توازن ضروری ہے: قصوری03 July, 2005 | پاکستان خودمختاری آئین کے اندر ہی: منموہن 25 February, 2006 | انڈیا ’نہ توثق کیے نہ دستخط کیے ہیں‘10 March, 2005 | پاکستان بھارت کے رد عمل پر حیران ہیں: پاکستان26 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||