’تمام گروہوں سے بات پر تیار ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں متعین بھارتی ہائی کمشنر شوِ شنکر مینن نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے وہ تمام گروہوں سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن دباؤ میں آ کر یا تشدد نہ چھوڑنے والوں سے بات چیت نہیں ہوگی۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو جنوبی ایشیا میں صحافیوں کی ایک تنظیم ’سیفما‘ کے زیر انتظام ایک لیکچر پروگرام کے بعد شدت پسند کشمیری رہنما سید صلاح الدین کے بیان کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ حزب المجاہدین نامی شدت پسند تنظیم کے مرکزی کمانڈر صلاح الدین سے منسوب یہ انٹرویو ایک مقامی اخبار میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر بھارتی حکومت کشمیریوں کو تیسرا فریق تسلیم کرتے ہوئے انہیں جامع مذاکرات میں شامل کرے تو وہ فائر بندی کے لیے تیار ہیں۔ سید صلاح الدین پاکستانی کشمیری شدت پسندوں کی تنظیموں کے اتحاد ’متحدہ جہاد کونسل‘ کے سربراہ بھی ہیں۔ ان کے بیان پر بھارتی ہائی کمشنر نے کہا کہ اول تو انہوں نے یہ بیان نہیں پڑھا اور دوسرا اخباری بیانات پر وہ زیادہ بولنا مناسب نہیں سمجھتے۔ تاہم ہائی کمشنر نے کہا کہ بھارتی قیادت کئی کشمیری گروپوں کے رہنماؤں سے ملاقات کر رہی ہے اور دیگر سے بھی کرے گی لیکن پیشگی شرط رکھنے والوں سے بات نہیں ہوسکتی۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری جامع مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں انہوں نے امید ظاہر کی اور کہا کہ انہیں کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی کہ آخر یہ بات چیت کیوں کامیابی سے ہمکنار نہ ہو۔ انہوں نے گزشتہ سال دونوں ممالک کی قیادتوں کے اس بیان کا بھی ذکر کیا جس میں وہ کہہ چکے ہیں کہ امن بات چیت ناقابل واپسی ہے۔ پاکستان کی عدالت اعظمیٰ کے سینئر ترین جج رانا بھگوان داس کے اہل خانہ کو بھارت میں داخل ہونے سے روکنے کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ویزا کے قواعد پیچیدہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدے کے بعد جو پیچیدہ ویزا قوانین مرتب ہوئے تھے۔ ان کے مطابق پیچیدگیاں ختم کرنے اور مسافروں کو سہولیات دینے کے بارے میں بھارت نے پاکستان کو ایک ترمیمی مسودہ دیا ہے اور ڈیڑھ سال گزر جانے کے باوجود بھی تاحال جواب نہیں ملا۔ | اسی بارے میں کشمیر بس حادثہ، پچاس افراد ہلاک20 January, 2006 | انڈیا کشمیر میں فوج پر حملہ 26 October, 2005 | انڈیا بھارتی کشمیر کے وزیرِ تعلیم قتل18 October, 2005 | انڈیا پنڈتوں کی کشمیر واپسی کےانتظامات30 August, 2005 | انڈیا کشمیر کا حل، استصواب رائے سے 16 June, 2005 | انڈیا کشمیر میں سیاحوں کی واپسی31 May, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||