بحری تجارت کے معاہدے پر اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور انڈیا نے جامع مذاکرات کے تحت تجارتی امور پر دو روزہ بات چیت کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیے میں بین المملکتی بینکوں کی شاخیں کھولنے کے عمل کو تیز کرنے، بھارت سے پاکستان چائے کی درآمد اور دونوں ممالک کے درمیان بحری تجارت کے نئے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ اسلام آباد میں وفود کی سطح پر ہونے والی اس بات چیت میں بھارتی وفد کی قیادت سیکرٹری تجارت ایس این مینن جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت ان کے ہم منصب آصف شاہ نے کی۔ دونوں ممالک نے بحری راستے سے تجارت کے لیئے جہاز رانی کا ایک نیا معاہدہ کرنے پر بھی اتفاق کیا جس پر مستقبل قریب میں انڈیا کے دارالحکومت نئی دلی میں دستخط کیئے جائیں گے۔ پاکستان اور انڈیا اپنے اپنے باسمتی چاول کے برانڈ عالمی طور پر رجسٹر کرانے اور آئندہ حاصل کردہ مخصوص ناموں کے ساتھ چاول دنیا میں فروخت کریں گے۔ تاہم اس مشترکہ اعلامیے میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ آیا پاکستان بھارت کو تجارت کے شعبے میں پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دے گا یا نہیں۔ بھارت دس سال قبل پاکستان کو یہ درجہ دے چکا ہے مگر پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ بھارت کو یہ درجہ اس وقت تک نہیں دیا جا سکتا جب تک دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسائل خصوصاً مسئلۂ کشمیر حل نہیں ہو جاتے۔ | اسی بارے میں پاک بھارت تجارت کے فروغ پر اتفاق27 March, 2006 | پاکستان انڈو پاک تجارت: چاولوں پر اتفاق28 March, 2006 | پاکستان پاک بھارت: تجارتی امور پر بات چیت28 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||