ایل او سی پر نئی چوکیاں نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت نےاتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک کنٹرول لائن کے قریب نئی چوکیاں قائم نہیں کریں گے۔ اور نہ ہی دفاعی نوعیت کا کام کریں گے۔ پاکستان اور بھارت نےجمعرات کے روز اتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک کنٹرول لائن کے قریب نئی چوکیاں قائم نہیں کریں گے اور نہ ہی دفاعی نوعیت کا کام کریں گے۔ تاہم کشمیر سے میزائیل، مارٹرگن سمیت بھاری اسلحہ ہٹانے سمیت اسے غیر فوجی علاقہ بنانے کی کئی تجاویز بھارت نے مسترد کردی ہیں۔ اس بات کا اعلان دونوں ممالک میں روایتی اسلحہ کے بارے میں اعتماد سازی کے اقدامات کے بارے میں بات چیت کا تیسرا دور ختم ہونے کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کیا گیا۔ بات چیت کے دوران بھارتی وفد کی قیادت ان کی وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری دلیپ سنہا اور پاکستانی وفد کی قیادت ان کے ہم منصب طارق عثمان حیدر نے کی۔ پاکستانی نمائندے نے بتایا کہ عالمی سرحد کے قریب نئی چھاؤنیاں اور ’سٹرائیک فارمیشنز‘ قائم نہ کرنے کی تجاویز بھی انہوں نے پیش کیں لیکن بھارت نے وہ بھی مسترد کردیں۔ اس بارے میں بھارتی نمائندے نے کہا کہ کوئی بھی آزاد اور خود مختار ملک اپنی افواج کی تعیناتی اور بھاری اسلحہ کے نصب کرنے کا فیصلہ اپنی سلامتی اور حفاظتی ضروریات کے پیش نظر کرتا ہے اور کوئی ملک کسی کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہاں فوج رکھیں اور وہاں نہ رکھیں۔ نیوز بریفنگ میں ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے نمائندوں نے اتفاق کیا ہے کہ ’بارڈر گراؤنڈ رولز‘ کو حتمی شکل دی جائے گی تاکہ عالمی سرحدوں پر ان پر عملدر آمد کروایا جا سکے۔ بیان کے مطابق دونوں ممالک نےاس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ سہ ماہی ’فلیگ میٹنگز‘ اور جب ضروری ہو اس طرح کی ملاقاتیں منعقد کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ لیکن اس بارے میں طریقہ کار وضع کرنے پر ابھی بات ہوگی۔ اس طرح کی ملاقاتیں سیکٹر کمانڈروں کی سطح پر ہوں گی۔اس ضمن میں مواصلاتی رابطے کے بارے میں بھی طریقہ کار پر ابھی بات چیت ہونی ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے سربراہان کی مختصر مشترکہ نیوز بریفنگ کے بعد مہمان وفد کے اراکین چلے گئے۔ مشترکہ بریفنگ میں تو پاکستانی نمائندے نے بظاہر محتاط انداز اپنائے رکھا لیکن مہمانوں کی رخصتی کے بعد طارق عثمان حیدر نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کشمیر میں نصب شدہ میزائیل، مارٹر گنز، اور دیگر بھاری اسلحہ ہٹانے اور کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کے بارے میں تاحال پاکستان کی جان سے بھارت کو پیش کردہ تجاویز کا تفصیلی ذکر کیا اور ماضی میں ہونے والی بات چیت کا پس منظر بھی بیان کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے جہاں اپنی تجاویز کا تفصیلی تذکرہ کیا وہاں بھارت کے رد عمل سے بھی مطلع کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی جانب سے ’ڈی ملیٹرائیزیشن، کے بارے میں پیش کردہ متعدد تجاویز بھارت نے مسترد کردی ہیں۔ طارق عثمان حیدر کی باتوں سے بظاہر یہ تاثر ملا کہ کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے بارے میں بھارت ابھی تیار ہی نہیں ہے۔انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ دوبارہ ان تجاویز پر غور کریں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات ہی مسئلہ کشمیر کے حل اور دونوں ممالک میں حقیقی اعتماد کی بحالی کی راہ ہموار کریں سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی نوے فیصد فوجی قوت کا مقصد پاکستان ہے لیکن جب بھی بھارت سے فوجی قوت کم کرنے پر بات ہوتی ہے تو وہ ہمیشہ پاکستان کے علاوہ چین اور بنگلہ دیش کے ساتھ اپنی طویل سرحد کی بات کرتا ہے اور اپنی عالمی اور علاقائی سلامتی کا عذر پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جب روایتی اسلحہ کے شعبے میں استحکام کی بات کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کا ایک فوجی ہے تو بھارت کا بھی ایک ہو لیکن ان کے مطابق اس میں خطرات کی حد تک واضح طور پر ضابطہ ہونا چاہیے۔ طارق عثمان حیدر نے کہا کہ ایک طرف بھارت پاکستان سے دوستی کی بات کرتا ہے اور بہتر تعلقات کا خواہاں بھی ہے لیکن دوسری جانب ان کے بقول پاکستان کی حقیقت پسندانہ تجاویز مسترد کرتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کا موقف زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ کنٹرول لائن کے قریب نئی چیک پوسٹ قائم نہ کرنے اور کوئی دفاعی نوعیت کا کام نہ کرنے پر جو اتفاق ہوا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ بھارت باڑ لگانے کا کام روک دے گا۔ | اسی بارے میں جوہری اعتمادسازی، اتفاقِ رائےنہ ہو سکا26 April, 2006 | پاکستان جوہری مذاکرات: مثبت ماحول 25 April, 2006 | پاکستان جوہری ہتھیار، پاک انڈیا مذاکرات24 April, 2006 | پاکستان انڈیا پاکستان بات سفارشات پر ختم22 March, 2006 | پاکستان جوہری امور پر پاک بھارت اعتماد سازی06 August, 2005 | پاکستان جوہری امور، پاک بھارت مذاکرات05 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||