جوہری اعتمادسازی، اتفاقِ رائےنہ ہو سکا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیاں جوہری اعتماد سازی کے اقدامات کے بارے میں دو روزہ بات چیت کا چوتھا دور بدھ کے روز ختم ہوگیا لیکن جوہری حادثات کے خطرات کم کرنے کے بارے میں معاہدے کے متن پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ بات چیت کے دوران پاکستانی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری طارق عثمان حیدر اور مہمان وفد کی قیادت ان کے ہم منصب ’کے سی سنگھ‘ نے کی۔ بدھ کے روز بات چیت کے اختتام پر دونوں ممالک کے وفود کے سربراہان نے مشترکہ نیوز بریفنگ میں بتایا کہ انہوں نے اس معاہدے کی شقوں پر تفصیلی بحث کی ہے اور بعض شقوں پر ان کے درمیاں اب بھی اختلاف رائے موجود ہے۔ تاہم انہوں نے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کے بارے میں اتفاق ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر آئندہ بھی بات چیت جاری رہے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ جلد اس معاہدے کو حتمی شکل دے دیں گے۔ اختلافی معاملات کے بارے میں سوال پر بھارتی وفد کے سربراہ کے سی سنگھ نے کہا کہ ’ریڈی ایشن لیکس، یعنی تابکاری اخراج سے جو حادثات ہوسکتے ہیں ان کے بارے میں اعتماد سازی کے اقدامات پر بات ہورہی ہے‘۔ تاہم انہوں نے پراعتماد انداز میں کہا کہ اختلافی نکات ایسے نہیں ہیں جن پر اتفاق نہ ہو سکے اور انہیں یقین ہے کہ وہ جلد سے جلد اس معاہدے کو حتمی شکل دے دیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرنے کو تیار ہے تو بھارتی وفد کے سربراہ نے اس کا واضح جواب دیے بنا کہا کہ ان کے وزیراعظم نے تو اس سے بھی ایک قدم آگے یعنی دوستی کے معاہدے کی پیشکش کی ہے۔
انہوں نے جامع مذاکرات کی سست رفتاری کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہمیں مثبت اقدامات کی طرف بھی دیکھنا چاہیے کہ دونوں ممالک میں بس اور ریلوے سروس شروع ہوئی ہیں، کنٹرول لائن سے راستے کھلے ہیں اور ایک ہزار افراد نے سرحد عبور کی ہے‘۔ انہوں نے کہا بھارت پاکستان کے ساتھ مختلف معاملات پر بات چیت اور دوستی کے لیے مثبت نکتہ نظر سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس معاہدے کے بعد پاکستانی عوام جوہری اسلحہ کہ استعمال کے خطرے سے محفوظ ہوں گے تو انہوں نے کہا کہ ’ میں پاکستانی عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ بھارت کسی ملک کے خلاف بھی پہلے جوہری اسلحہ استعمال نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسے ملک کے خلاف اس اسلحہ کا استعمال کرے گا جس کے پاس جوہری اسلحہ نہ ہو‘۔ کے سی سنگھ نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ جوہری اعتماد کے بحالی کے اقدامات خاصے مشکل ہوتے ہیں لیکن ہمیں ہی انہیں آسان بنانا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس موضوع پر وہ بات کر رہے ہیں اس پر انہیں قدم بقدم آگے چلنا ہے تاکہ پیش رفت ہوسکے۔ اس موقع پر طارق عثمان حیدر نے کہا کہ بات چیت میں پیش رفت تیزی سے ہورہی ہے اور دونوں ممالک لچک کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس سے وہ پر امید ہیں کہ اختلافی معاملات پر جلد قابو پالیں گے۔ دونوں ممالک کے نمائندوں میں روایتی اسلحہ کے متعلق اعتماد کی بحالی کے اقدامات پر بات چیت جمعرات کے روز ہوگی۔ حکام کے مطابق روایتی اسلحہ کے بارے میں بات چیت کے دوران پاکستان کی پیش کردہ ’سٹریٹیجک ریسٹرینٹ رجیم‘ اور سمندری نقل و حمل کو محفوظ بنانے کے معاہدے کی تجاویز پر بھی بات چیت ہوگی۔ واضح رہے کہ جوہری اعتماد کے بحالی کے اقدامات کے سلسلے میں بات چیت کے تیسرے دور میں گزشتہ برس دونوں ممالک نے بیلسٹک میزائل کے تجربوں کی پہلے سے ایک دوسرے کو آگاہی کے معاہدے اور خارجہ سیکریٹریوں کے درمیاں رابطوں کے لیے ہاٹ لائن قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے بدھ کے روز کہا کہ خارجہ سیکریٹریوں کے درمیاں بحال کردہ ’ہاٹ لائن، کو مزید محفوظ بنانا ہے اور اس بارے میں ان کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں جوہری مذاکرات: مثبت ماحول 25 April, 2006 | پاکستان جوہری ہتھیار، پاک انڈیا مذاکرات24 April, 2006 | پاکستان انڈیا پاکستان بات سفارشات پر ختم22 March, 2006 | پاکستان جوہری امور پر پاک بھارت اعتماد سازی06 August, 2005 | پاکستان جوہری امور، پاک بھارت مذاکرات05 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||