سیاستدانوں کے بھارتی دورے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کے قائد مخدوم امین فہیم کے بعد جمعت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن دوسرے پاکستانی سیاستدان ہیں جو اس مہینے بھارت کے دورہ پر گئے ہیں اور جہاں ان کی ملاقات وزیراعظم من موہن سنگھ اور حزب اختلاف کے رہنماؤں سے ہو رہی ہے۔ بھارتی حکومت کی دعوت پر پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے وفود ان دنوں باری باری بھارت کے جو دورے کررہے ہیں سفارتی حلقوں میں اس کا مقصد یہ بتایا جارہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کسی متوقع سمجھوتہ کے لیے وسیع البنیاد سیاسی حمایت کی فضا پیدا کی جائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے چئیرمین امین فہیم نے پارٹی کے چھ دیگر رہنماؤں کے ساتھ دلی کا دورہ کیا تھا اور اور جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن ان دنوں چار رکنی وفد کے ہمراہ دلی میں ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے پاکستان حکومت سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی کی سیاسی جماعتوں سے دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعلقات کے بارے میں بات چیت کرنا چاہتی ہے جس پر پاکستانی حکومت نے اپنی رضامندی ظاہر کی جس کے بعد سیاسی رہنماؤں کے حالیہ دوروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو بھارت بلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان سے دو طرفہ تعلقات پر مشاورت کی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی پالیمینٹرین نے بھارتی پیش کش کا سب سے پہلے مثبت جواب دیا جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی کا وفد امین فہیم کی قیادت میں سب سے پہلے بھارت کا دورہ کرکے آیا۔ پیپلز پارٹی کے وفد نے اپنے دورہ میں بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما ایل کے ایڈوانی سے بھی ملاقات کی تھی۔ دس مئی کو پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن آمین فہیم دلی سے لاہور واپس آئے تھے۔انہوں نے وطن واپسی پر کہا تھا کہ انہوں نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی جس میں بھارتی وزیراعظم نے کشمیر سمیت تمام مسائل پرامن طریقے سے حل کرنے کی بات کی جو بہت حوصلہ افزا بات ہے۔ مولانا فضل الرحمن پندرہ مئی کو لاہور سے دلی روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ ان کی پارٹی کے چار دوسرے رہنما مجاہد خان، سنیٹر طلحہ محمود، سنیٹر خالد سومرو اور رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین بھی دلی گئے ہیں۔ لاہور سے روانگی کے وقت انہوں نے کہا تھا کہ وہ امن ، بقائے باہمی اور خیر سگالی کا پیغام لے کر دلی جارہے ہیں۔وہ بھارتی دورہ کے دروان میں وزیراعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ساتھ بھارت کی حکومتی جماعت اور حزب مخالف کے سیاسی رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔ لاہور میں جماعت اسلامی کے خارجہ تعلقات کے انچارج غفار عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے متحدہ مجلس عمل کو بتایا تھا کہ وہ جمعیت علمائے ہند کی کسی تقریب میں شرکت کے لیے بھارت جارہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت کو ابھی بھارتی حکومت کی ایسی کوئی باضابطہ دعوت نہیں ملی البتہ ماضی میں جماعت کے امیر قاضی حسین احمد کو بھارت کے دورہ کے لیے بالواسطہ طور پر پیغامات ملتے رہے لیکن انہوں نے وہاں جانے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ جب تک کشمیر کا تنازعہ ہے وہ بھارت نہیں جاسکتے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے وفود کے بھارتی حکومت اور حزب مخالف سے ملاقاتوں کا مقصد یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان اس وقت ہونے والے جامع مذاکرات کے نتیجہ میں اگر کسی سمجھوتہ پر پہنچیں تو اس کے لیے دونوں ملکوں میں وسیع سیاسی حمایت موجود ہو۔ | اسی بارے میں اپوزیشن کا کچھ نکات پر اتفاق02 February, 2006 | پاکستان نیشل سیکیورٹی کونسل کا بائیکاٹ23 June, 2004 | پاکستان پارلیمانی وفود کےتبادلوں پر زور01 June, 2005 | پاکستان قاضی اور فضل الرحمٰن اختلافات06 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||