سیاچن مذاکرات پھر شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیاچن کے مسئلے کے حل کے لیے نئی دلی میں بات چیت کا ایک اور دور شروع ہو گیا ہے۔ دنیا کے سب سے اونچے میدان جنگ سیاچن گلیشیئر پر فوج کی موجودگی کم کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے دفاع سیکریٹریز نے منگل کی صبح بات چیت شروع کی ہے۔ اس سے قبل اس مسئلے پر دونوں نو بار بات چیت کر چکے ہیں لیکن اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ پاکستان کے سیکریٹری دفاع لیفٹنٹ جنرل طارق غازی نے دلی پہنچنے پر کہا ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے کھلے ذہن سے بھارت آئے ہیں اور ’ ہم اس کے تمام پہلوؤں پر بات چیت کریں گے۔‘ بھارت نے بھی مسئلہ حل کرنے کی امید ظاہر کی ہے۔ اس سے قبل دونوں کے درمیان بات چیت پاکستان کے شہر راولپنڈی میں ہوئی تھی۔ بھارت چاہتا ہے کہ سیاچن گلیشیئر پر پاکستان موجودہ صورت حال کو قبول کر لے تو وہ اپنی فوجیں ہٹانے کے لیے تیار ہے لیکن پاکستان اس شرط کو ماننے کے لیے راضی نہیں ہے ۔ پاکستان سنہ انیس سو چوارسی سے قبل کی صورت حال ماننے کو تیار ہے جب سیاچن گلیشیئرز بھارتی فوج سے پوری طرح خالی تھیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات سنہ انیس سو چوراسی میں اس وقت شروع ہوئے تھے جب ہندوستان نے تقریبا بائیس ہزار فٹ اونچی گلیشئر پہاڑیوں پر اپنی فوج اتار دی تھی۔ اس وقت سے دونوں کے درمیان سیاچن کی برف پوش پہاڑیاں دنیا کا سب سے اونچا محاذ جنگ بنی ہوئی ہیں۔ کچھ برس قبل دونوں کے درمیان کشیدگی کے سبب جھڑپیں ہوئی تھیں جس کے بعد سے ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ میٹر اونچی ان پہاڑیوں پر دونوں جانب کی فوجیں تعینات ہیں۔ ان پہاڑیوں پر باہمی تصادم میں جہاں ہزاروں فوجی مارے گئے ہیں وہیں سخت سردی اور خراب موسم کے سبب بھی بہت سے جوان ہلاک ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ اس پیچیدہ مسئلے پر کوئی پیش رفت ہو لیکن ماہرین کے مطابق مسئلے کا حل اس وقت تک مشکل ہے جب تک فریقین کا رویہ لچکدار نہیں ہوتا۔ | اسی بارے میں سیاچن سے فوجیں ہٹانے کی حمایت29 May, 2005 | صفحۂ اول سیاچن پر مذاکرات، 26 مئی سے20 May, 2005 | پاکستان سیاچن گلیشیئر پر فوجی مذاکرات29 September, 2004 | انڈیا سیاچن: مذاکرات کا پہلا دور مکمل05 August, 2004 | انڈیا ’سیاچن پر موجودہ صورتحال مان لیں‘26 May, 2005 | انڈیا ’سیاچن کوامن کا پہاڑ بننا چاہیے‘ 12 June, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||