’سیاچن پر موجودہ صورتحال مان لیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل جوگیندر جسونت سنگھ نے کہا ہے کہ سیاچن معاملے پر بات چیت میں کوئی بھی فیصلہ ملک کے تحفظ و مفاد میں کیاجائے گا۔ نئی دلی میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے سٹر سنگھ نے کہا کہ اس مسئلے پر فوج نے اپنی رائے کومت کو بھیج دی تھی اور اب اسے جواب کا انتظار ہے۔ فوج کے سربراہ نے کہا ’ بنیادی طور پر ہم یہ چاہتے ہیں کہ موجودہ صورت حال جسے حقیقی گراؤنڈ پوزیشن کہا جاتا ہے اسے کسی بھی طرح قبول کرلیا جائے تاکہ مستقبل میں ہم اپنے مفاد کا تحفظ کرسکیں۔ اس طرح ان جگہوں پر فوج کی تعیناتی کا معاملہ بھی نہیں رہےگا'' ۔ ہندوستان اور پاکستان کے حکام سیاچن تنازعے کے حل کے لیے اسلام آباد میں بات چیت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہندوستان کا ایک اعلی سطحی وفد پاکستان گیا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیاچن کی برف پوش پہاڑیاں دنیا کا سب سے اونچا محاذ ہے۔ کچھ برس قبل دنوں کے درمیان کشیدگی کے سبب جھڑپیں ہوئی تھیں۔ تبھی سے ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ میٹر کی اونچی ان پہاڑیوں پر دونوں جانب کی فوجیں تعینات ہیں۔ ان پہاڑیوں پر باہمی تصادم میں جہاں ہزاروں فوجی مارے گئے ہیں وہیں سخت سردی اور خراب موسم کے سبب بھی بہت سے جوان ہلاک ہوئے ہیں۔ دونوں ہی ملک جانتےہیں کہ ان پہاڑیوں پر فوج کی تعیناتی سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسکا تصفیہ ہوجائے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||