BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 May, 2005, 07:49 GMT 12:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیاچین: مثبت پیش رفت کے اشارے

سیاچین کے مسئلے پر 2004 میں بھی مذاکرات ہوئے (فائل فوٹو)
سیاچین کے مسئلے پر 2004 میں بھی مذاکرات ہوئے (فائل فوٹو)
دنیا کے اونچے ترین میدان جنگ ’سیاچین گلیشیئر‘ کے تنازعے پر بھارت کے سیکریٹری دفاع اجے وکرم سنگھ اور پاکستان کے سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طارق وسیم غازی کی سربراہی میں وفود کے درمیان دو روزہ بات چیت کا پہلا دور مکمل ہوگیا ہے۔

راولپنڈی میں وزارت دفاع کے اندر ہونے والی بات چیت کے بارے میں تاحال کوئی تفصیل تو نہیں بتائی گئی البتہ حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے اشارے ملے ہیں اور حتمی نتائج جمعہ کو ہی دوسرے مرحلے کی بات چیت کے اختتام پر ہی سامنے آئیں گے۔

پہلے دن کی بات چیت کے بعد میزبان سیکریٹری دفاع نے مہمان وفد کے اعزاز میں ظہرانا دیا۔

بھارت کے سیکریٹری دفاع اجے وکرم سنگھ کی سربراہی میں بھارتی وفد گزشتہ روز اسلام آباد پہنچا تھا اور اپنی آمد کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ وہ کھلے دل و دماغ سے بات چیت کو آگے بڑھانے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ انہیں سیاسی قیادت نے نئی ہدایات دی ہیں۔ سیاچین کو غیر فوجی علاقہ بنانے کی تجویز کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ تمام معاملات پر بات چیت مذاکرات کی میز پر کریں گے۔

حکام کے مطابق جامع مذاکرات کے سلسلے میں جاری بات چیت کے سلسلے میں چھبیس اور ستائیس کو سیاچین کے معاملے پر جبکہ ستائیس اور اٹھائیس مئی کو سرکریک کے مسئلے پر دونوں ممالک کے وفود مذاکرات کریں گے۔

ان دونوں موضوعات پر ابتدائی بات چیت کا ایک دور پہلے بھی ہو چکا ہے اور دونوں ممالک نے تجاویز کا تبادلہ کیا تھا۔ سرکریک پر تو پیش رفت ہوئی تھی لیکن سیاچین گلیشیئر پر فوج کی کمی اور دیگر معاملات کے حل میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔

سیاچین پر فوج رکھنے پر دونوں ممالک کو بھاری اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں اور اب خیال کیا جاتا ہے کہ شاید وہ دنیا کے بلند اور مہنگے ترین جنگی مقام سے اگر کلی طور پر نہیں تو جزوی طور پر فوج کم کرنے پر اتفاق کر لیں۔

سیاچین گلیشیئر پر دونوں ممالک کے اتنے فوجی لڑائی میں نہیں مارے گئے جتنے کم آکسیجن اور موسم کی وجہ سے لقمۂ اجل بنے ہیں۔

گزشتہ مارچ میں پارلیمنٹ میں بحث و مباحثے کے دوران ایک سوال کے جواب میں وزیردفاع پرنب مکھرجی نے کہا تھا کہ سیاچین کے معاملے پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت ہوئی تھی لیکن سرحد سے پوری طرح سے فوج کو واپس بلانے پر دونوں جانب سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔

دونوں ممالک کے سرویئر جنرل نے گزشتہ جنوری میں متنازعہ سرکریک کا سروے کیا تھا اور برجیاں بھی لگائی تھیں۔ متعلقہ حکام نے فروری میں اپنے سروے کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کا تبادلہ کرتے ہوئے اسے کمپیوٹرائز بھی کر دیا تھا۔

سرکریک کا علاقہ بھارتی علاقے رن آف کچھ سے پاکستان کے صوبہ سندھ تک پھیلا ہوا ہے جس کی لمبائی ساٹھ میل ہے۔

اس علاقے کا تنازعہ 1960 کی دہائی میں سامنے آیا۔ 1969 سے اب تک اس مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے چھ دور ہوئے ہیں مگر اس علاقے کی ملکیت کا تنازعہ حل نہیں ہو سکا۔

سرکریک کے تنازعے کی وجہ اس علاقے میں تیل اور گیس کے ذخائر ہیں اور اسی لیے اس سے دستبردار ہونے کے لیے نہ بھارت تیار ہے اور نہ پاکستان۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد