BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 May, 2005, 15:14 GMT 20:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیاچن سے فوجیں ہٹانے کی حمایت

کشمیر بس سروس
بھارتی وزیر اعظم نے سیاچن سے فوجیوں واپس بلانے کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔
ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے سیاچن سے فوجیں ہٹانے کی تجویز کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان جاری بات چیت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات صحیح سمت میں رواں ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو بس سروس کی آمد ورفت میں بھی اضافہ کیا جائیگا۔

ہماچل پردیش کے دو روزہ دورے کےاختتام پر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوۓ مسٹر سنگھ نے کہا ہندوستان پاکستان کے ساتھ تمام دوطرفہ معاملات کے حل کے لیے ہر ممکن سنجیدہ کوشش کریگا ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاچن مسئلے پر فریقین کے درمیان بات چیت ہوئی ہے اور اب دیکھتے ہیں کہ اس میں کیا پیش رفت ہوئی ہے؟۔

انکا کہنا تھا اس مسئلے کو بھی بات چیت سے حل کرلیا جائیگا۔ انہوں نے سیاچن کو فوج سے پوری طرح خالی کرنے کے متعلق کوئی واضح بات نہیں کہی لیکن انکا کہنا تھا کہ اگر اتفاق ہوجائے تو فوجیں ہٹائی جاسکتی ہیں۔

منموہن سنگھ نے یہ تسلیم کیا کہ پاکستان کے ساتھ کئی معاملات پر مشکلیں بھی ہیں لیکن انہوں نے کہا ’ ہمیں کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آتی ہے کہ مشکلوں کے باوجود بھی ہمارے تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے ہیں‘ ۔

مسٹر سنگھ نےامید ظاہر کی کہ اعتماد سازی کے اقدامات سے لوگوں کے درمیان رابطے مضبوط ہونگے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا مظفرآباد اور سری نگر کے درمیان بس سروس کی آمد ورقت میں اضافہ کیا جائیگا۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ کسی بھی چیز سے انکار نہیں کیا جا سکتاہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد