پی پی پی کا وفد ہندوستان سے واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے چئرمین مخدوم امین فہیم کی سربراہی میں جانے والا چھ رکنی وفد بھارت کے دو روزہ دورے اور ہندوستانی وزیراعظم اور حزب اختلاف کے رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتوں کے بعد پاکستان پہنچ گیا ہے۔ مخدوم امین فہیم نے لاہور کے ائیر پورٹ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ’جب سویلین آپس میں مل بیٹھیں گے تو وہ اپنے مسائل بہتر انداز سے حل کر لیں گے۔‘ بھارت سے لوٹنے والے پاکستانی وفد میں مخدوم امین فہیم کے علاوہ پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں کے قائدین حزب اختلاف قاسم ضیاء، نثار کھوڑو، سینیٹرانوربیگ، راجہ پرویز اشرف اور رامیش لعل شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے وفد نے کانگرس کی دعوت پر یہ دورہ کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف کے مطابق انہیں بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے باضابطہ دعوت ملی تھی۔ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ ہندوستانی وزیراعظم نے ان سے ملاقات میں پاکستان کی سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ ان کی نیک تمنائیں بے نظیر تک پہنچا دیں۔ امین فہیم نے کہا کہ وہ اپنے دورے کی تفصیلات سے بے نظیر کو آگاہ کریں گے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا دورہ پاکستان کی بھارت سے خفیہ سفارت کاری کا حصہ ہے تو انہوں نے اس تاثر کی نفی کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنا کام کر رہی جبکہ ان کی پارٹی نے اپنے سیاسی رابطے رکھے ہوئے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ خیر سگالی کا دورہ تھا یہ عوام سے عوام کے درمیان اور سول ٹو سول رابطوں کی ایک کڑی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی حکومت آئی تو وہ زیادہ اچھے طریقے سے دونوں ملکوں میں تعلقات کو خوشگوار کر سکیں گے تو انہوں نے کہا کہ جب سویلین ساتھ مل کر بیٹھیں گے تو وہ زیادہ اچھے طریقے سے اپنے مسائل حل کر سکیں گے۔ پاکستانی وفد نے بھارت میں ہندوستانی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کے علاوہ بھارت میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں قائدین حزب اختلاف ایل کے اڈوانی اور جسونت سنگھ اور مختلف بھارتی رہنماؤں اور حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ بھارتی حکام نے پاکستان سے تمام تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جبکہ دونوں ملکوں کے عوام پرانی تلخیاں ختم کرکے اچھے تعلقات قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ملکوں کے عوام یہ فیصلہ کر لیں کہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ایسا طریقہ کار اپنایا جائے جو قانون کے دائرے میں ہو اور جس میں آئین کا احترام موجود ہو تو وہ ان کے نزدیک ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ راجہ پرویز اشرف نےکہا کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کے بھارتی حکام سے ملاقات کے بڑے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔ | اسی بارے میں حزب اختلاف کا وفد انڈیا روانہ08 May, 2006 | پاکستان اے آر ڈی میں ایم ایم اے اور دیگر30 April, 2006 | پاکستان مشرف اے آر ڈی سے بات کریں: بینظیر24 April, 2006 | پاکستان ’مشرف کو جلسوں سے روکا جائے‘08 April, 2006 | پاکستان ’بش کے دورے سے کچھ نہیں ملا‘04 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||