انڈیا سے ملاقاتیں ہورہی ہیں،قصوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے دونوں ملکوں کے سکریٹری خارجہ کی سطح پر ملتوی شدہ ملاقات کے علاوہ بھی کچھ میٹنگز یا ملاقاتیں طے تھیں جو ہو رہی ہیں جس سے اندازہ ہوتاہے کہ ہندوستان یہ سمجھ گیا ہے کہ ڈائیلاگ ختم کردینا خود اس کے مفاد میں نہیں ہے۔ وہ سنیچر کی شام لاہور میں تھنکرز فورم کے زیراہتمام ہونے والی ایک تقریب کے اختتام پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ مذاکرات کرکے کوئی ایک ملک دوسرے پر احسان نہیں کر رہا بلکہ مذاکرات کا جاری رہنا دونوں ملکوں کے اپنے مفاد میں ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ملک یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ جنگ کے ذریعے حل نہیں ہوسکتا تاہم ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک ڈائیلاگ کا معاملہ ہے توجامع مذاکرات ہندوستان نے خود ملتوی کیے تھے اور اب ان کے بقول ان مذاکرات کے لیئے نئی تاریخ بھی انڈیا نے ہی دینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے بہت سے ملک یہ سمجتھے ہیں کہ پاکستان اور بھارت میں امن، بین الاقوامی امن کے لیئے ضروری ہے۔
کشمیر پر دونوں ملکوں کے مشترکہ کنٹرول کے امکان پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں خورشید قصوری نے کہا کہ ہندوستانی وزیر اعظم من موہن سنگھ خود کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کو چند تجاویز دی ہیں۔تاہم پاکستانی وزیر خارجہ نے ان تجاویز کے بارے میں مزید کچھ بتانے سے یہ کہہ کر گریز کیا کہ اس زیادہ کہنے سے سفارتی طورپر برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹری خارجہ سطح کے مذاکرات کو ملتوی کیا جانا ہندوستان کا ردعمل تھا جو اس کے اندرونی سیاسی دباؤ کی وجہ سے سامنے آیا تھا اور ہر ملک میں اپوزیشن ایسا دباؤ پیدا کرتی ہے۔ لبنان میں پاکستانی فوج کو امن دستے میں شامل کیئےجانے کے حوالےسے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس بارے میں پاکستان ابھی حالات کا جائزہ لے رہا ہے اور انہوں نے تمام معاملات سے صدر اور وزیر اعظم کو آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی لبنان کے اعلی عہدیداروں کی اپنے طور پر ایک اہم ملاقات ہونا باقی ہے اسی طرح اقوام متحدہ کی وہ قرارداد بھی مبہم ہے جس کے تحت امن فورس بھجوائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی وزیر اعظم نے انہیں کہاتھا کہ پاکستان کی فوج لبنان بھیجی جائے لیکن پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے فوری کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ پہلے پاکستان اس بات کا جائزہ لے گا کہ قرارداد میں موجود مبہم باتوں کا بین الاقوامی برادری کیا مطلب لیتی ہے اور پھر اس بات کا جائزہ بھی لیا جائے گا کہ حزب اللہ اور دیگر لبنانی حلقے اس فورس سے کیا مطلب اخذ کریں گے اس کے بعد ہی لبنان میں پاکستانی فوج بھجوانے کا کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں ’بھارت پاکستان میں کارروائی کرے‘13 August, 2006 | انڈیا ’پاک انڈیادوستی سبوتاژ نہ کریں‘06 August, 2006 | پاکستان ’پاک انڈیا دوستی کیلیئے جہوریت ضروری‘18 July, 2006 | پاکستان پاک انڈیا مذاکرات: ’منفی پیش رفت‘17 July, 2006 | پاکستان وولر بیراج: پاک انڈیا مذاکرات 22 June, 2006 | پاکستان ’ہم ویزے دیتے ہیں انڈیا نہیں دیتا‘17 June, 2006 | پاکستان ’ایران کاحل یواین کےتحت نکالا جائے‘05 January, 2006 | پاکستان ’اسرائیل سے روابط کافیصلہ کیاہے‘02 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||