BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 June, 2006, 03:25 GMT 08:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہم ویزے دیتے ہیں انڈیا نہیں دیتا‘

دنیا بھر سے ہزاروں سکھ گرو ارجن کی برسی پر لاہور آئے ہیں
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق نے کہا ہے کہ ان کی طرح ہزاروں پاکستانی ہندوستان جانے کے خواہشمند ہیں لیکن بھارتی حکومت انہیں ویزے جاری نہیں کر تی۔

وہ جمعہ کو سکھوں کے پانچویں گرو ارجن دیو جی کی چار سوویں برسی کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔

سکھ یاتریوں کے جتھے لاہور کے ڈیرہ صاحب کی مرکزی تقریب میں شرکت کے بعد اب ننکانہ صاحب پہنچ چکے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’وہ بھی اپنے ہندوستانی پنجاب جاکر اپنے آبائی شہر جالندھر کو دیکھنا چاہتےہیں‘۔

وہ پاکستان کے سابق فوجی حکمران ضیاء الحق کے صاحبْزادے ہیں انہوں نے بعد میں بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد پاکستان آنے کے بعد پھر کبھی جالندھر نہیں گئے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ دو ڈھائی ماہ کے بعد وہ جالندھر جائیں گے۔

انہوں نے سکھ یاتریوں سے خطاب میں کہا کہ پاکستانیوں کی خواہش ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کے مقدس مقامات کا دورہ کریں۔

نظام الدین اولیا کے مزار پر حاضری دیں اجمیر شریف جائیں اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کریں تاہم انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت زیادہ ویزے جاری نہیں کرتی۔ وہی تین سو یا چھ سو ویزے ملتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ مطالبہ کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ اس مطالبے کو جامع مذاکرات کے پروٹوکول میں شامل کر دیا جائے نتیجہ یہ ہے کہ ویزے نہیں ملتے۔

انہوں نے سکھ یاتریوں کو کہا کہ اس مقابلے میں پاکستان انہیں دونوں بازو پھیلا کر ملتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کا کہ گرو ارجن دیو جی کی برسی کے لیے سکھوں کی نمائندہ تنظیموں نے پانچ ہزار ویزوں کا مطالبہ کیا تھا جو پاکستانی حکومت نے تسلیم کر لیا۔


حکومت پاکستان نے سکھوں کے پانچویں گرو ارجن دیو جی کی چارسوویں برسی کو خاص طور پر منانے کا اعلان کیا تھا جمعہ کی تقریبات کے لیے عتیق سٹڈیم میں انتظامات کیے تھے لیکن صبح سویرے آنے والی بارش نے خیمے اکھاڑ دیے اور سٹیج گرا دیا ۔

طوفانی بارش نے تقریب کو مختصر اور گردوارے کے اندر تو منتقل کر دیا لیکن اس میں شرکاء کی متوقع تعداد نے شرکت نہیں کی۔

’متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین، ریٹائرڈ لفٹینٹ جنرل ذوالفقار نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمشن چھٹی والے دونوں میں بھی کھلا رہا لیکن پانچ ہزار کی بجائے صرف تین ہزار سکھوں نے ویزے کے لیے درخواست دی اور ان میں سے بھی صرف تئیس سو پاکستان آئے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے دوہزار سکھوں کی آمد کی توقع تھی لیکن صرف دو سو آئے۔

سکھوں کے پانچویں گرو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سکھوں کی مقدس کتاب گروگرنتھ صاحب کو صحیح طریقے سے مرتب کیا تھا۔

شاہی قلعہ کے عین سامنے گردوارہ ڈیرہ صاحب وہ جگہ ہے جہاں چار سو سال پہلے گروارجن دیو جی کو مغل بادشاہ جہانگیر کے دورمیں قتل کیا گیا۔

ان کی ہلاکت کے بارے میں اگرچہ متضاد آراء بھی پائی جاتی ہیں لیکن ان کی برسی میں شریک بعض سکھوں کے خیال میں انہیں مغل بادشاہ نے اس لیے ہلاک کر دیا کہ انہوں نے گرو گرنتھ صاحب میں بادشاہ کی مرضی کے اضافی ابواب لگانے سے انکار کیا تھا۔

تقریب میں موجود ہندوستانی پنجاب سے آئے ایک یاتری ہرجیت سنگھ نے بتایاکہ انہیں جو تاریخ بتائی گئی ہے اس کے مطابق اسی مقام (گردوارہ ڈیرہ صاحب) پر انہیں پہلے جلتے توے پر بٹھایا گیا اور پھر دریا پر لے جا کر اذیتیں دیکر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

گرو دیوجی کی مغل حکمران کے ہاتھوں ہلاکت کو مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان اختلافات کا نکتہ آغاز قرار دیا جاتا ہے اور پاکستان حکام کا کہنا ہے کہ چار سوویں برسی کی خصوصی تقریبات اب سکھ مسلم بھائی چارہ کی فضا پیدا کرنے کی طرف اہم قدم ہے۔

شاہی قلعہ کے سامنے گردوارہ ڈیرہ صاحب میں ہزاروں سکھوں کی موجودگی میں گروارجن دیوجی کی چار سوویں برسی کی رسومات ادا کی گئیں۔

گردوارہ کی رونق غیر معمولی رہی پوجا پاٹھ کے علاوہ مختلف سٹالوں پر گروارجن دیوجی اور حضرت بابا گرونانک کی تصاویر فروخت کی جارہی ہیں لنگر جاری ہے اور پرشاد بانٹا جارہا ہے۔

اسی بارے میں
پاک فوج کا پہلا سکھ افسر
20 December, 2005 | پاکستان
امرتسر سے بس لاہور پہنچ گئی
24 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد