BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 January, 2006, 10:42 GMT 15:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امرتسر سے بس لاہور پہنچ گئی

بس سروس کا آغاز اسی مہینے جنوری میں ہوا تھا۔
منگل کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر بارہ بجے پہلی بھارتی بس واہگہ سرحد عبور کرکے امرتسر سے لاہور پہنچ گئی۔ بس میں امرتسر کے مئیر سمیت چھتیس مسافر اور عملہ کے تین ارکان شامل تھے۔

آج بھارتی پنجاب کی نائب وزیراعلی راجندر کور بھٹل نے واہگہ پر امرتسر کی بس کو الوداع کیا اور سرحد پر پاکستانی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوشش کی جارہی ہے کہ لاہور اور امرتسر میں ویزا دفاتر کھولے جائیں تاکہ لوگوں کو ویزہ لینے کی مشکلات کم ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں راجندر کور بھٹل نے کہا کہ دونوں طرف ایسے لوگ موجود ہیں جو پیار محبت کے خلاف ہیں۔

بھارتی بس میں بارہ سرکاری لوگ بھی شامل تھے جن کی قیادت بھارتی پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ مہندر سنگھ کیپی کررہے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک صوبائی وزیر، امرتسر کے مئیر سنیل دت، پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر درباری لال اور صوبائی وزیر ایکسائز سردول سنگھ اور کچھ سیکرٹری وغیرہ بھی آئے ہیں۔

مہندر سنگھ نے کہا کہ اس دورہ میں میں ان کی کوئی سرکاری مصروفیت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بس لاہور پہنچنے میں اس لیے دیر ہوگئی کہ سرحد پر کچھ بیوروکریٹک رکاوٹیں تھیں کیونکہ چند لوگوں کے کاغذات کم تھے۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ بس وقت پر پہنچا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس بس سے بہت امیدیں وابستہ ہیں اور لوگوں کی نیک دعائیں اس کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویزے وغیرہ کی جو دقتیں ہیں وہ بھی وہ بھی جیسے لوگوں کا رجحان بڑھے گا دور کرلی جائیں گی۔

بس جب واہگہ پہنچی اس کا والہانہ انداز میں استقبال کیا گیا

امرتسر کے مئیر سنیل دتی نے کہا کہ انہوں نے واہگہ سے گلبرگ بس ٹرمینل پر آتے ہوئے لاہور دیکھا اور انہیں شہر اچھا لگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شہر ویسا ہی ہے جیسا خوابوں میں دیکھا تھا۔

امرتسر کے مئیر نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کو اپنی ترقی پر توجہ دینی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ ہم دوسرے ملکوں سے کتنا پیچھے رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی آواز ہو تو فیصلے بدل لینے چاہئیں۔

واہگہ پر ڈھول کی تھاپ پر مسافروں کا استقبال کیا گیا اور صوبائی وزیر سیاحت میاں اسلم اقبال اور ٹورازم کارپوریشن کے حکام نے مسافروں کو خوش آمدید کہا۔ پاکستانی اہلکاروں نے مسافروں کو گلے لگایا اور ان کی چائے سے تواضع کی گئی۔

مسافروں میں کوئی مسلمان شامل نہیں اور زیادہ تر سکھ ہیں جن کا تعلق امرتسر، جالندھر، لدھیانہ اور چندی گڑھ سے ہے۔ ایک مسافر ممبئی سے بھی تھے۔

امرتسر سے ہر منگل کو بس لاہور ائے گی اور بدھ کے روز واپس جائے گی۔ پاکستانی بس ہر جمعہ کو جائے گی اور ہفتہ کو واپس آئے گی۔

چار روز پہلے بیس جنوری کو پہلی پاکستانی بس لاہور سے امرتسر گئی تھی اور اگلے روز کوئی نیا مسافر لیے بغیر واپس آگئی تھی۔

بھارتی پنجاب کی نائب وزیراعلی راجندر کور نے کہا کہ ستائیس جنوری کو ننکانہ اورامرتسر کے درمیان بس شروع ہوگی۔

اسی بارے میں
امرتسر سےلاہور، آزمائشی سفر
11 December, 2005 | پاکستان
لاہور امرتسر بس بیس جنوری سے
21 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد