لاہور سے امرتسر مسافر بس سروس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب سے بھارتی پنجاب کے لیے پہلی مسافر بس جمعہ کی صبح واہگہ باڈر پار کررہی ہے۔ تقسیم برصغیر کے بعد منقسم پنجاب کے درمیان چلنے والی یہ پہلی بس ہوگی۔ لاہور سے امرتسر کے درمیان چلنے والی اس بس سروس کے اولین مسافروں میں گلوکارہ ریشم بھی شامل ہیں۔ یہ بس جمعہ کی صبح لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع اپنے اسی ٹرمینل سے روانہ ہوگی تو اسے الوداع کرنے والوں میں پنجاب کے ایک وزیر اور دوسرے صوبائی حکام شامل ہونگے۔ پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ایک افسر ارشد علی کے مطابق پہلی بس کے لیے ابھی تک دس افراد نے بکنگ کروائی ہے جن میں سے سات کا تعلق ریشماں کے خاندان سے ہے اور باقی تین افراد بھارتی شہری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ بس پر ذرائع ابلاغ کے نمائندےاور پی ٹی ڈی سی کے اہلکار سفر کر رہے ہیں۔ یہ بس اگلے روز لاہور واپس آئے گی بھارتی حکومت چوبیس جنوری سے امرتسر سے لاہور بس چلانا شروع کرے گی۔ اس طرح ہر جمعے کو ایک پاکستانی بس امرتسر جاکر واپس لوٹا کرے گی جبکہ بھارتی بس منگل کو لاہور پہنچ کر اگلے روز واپس امرتسر چلی جایا کرے گی۔ قریب قریب واقع ان دونوں شہروں یعنی لاہور اور امرتسر کے درمیان بس ٹرمینل سے بس ٹرمینل کا یہ سفر پچپن کلومیٹر کا ہے۔ اس سے پہلے بھارتی پنجاب سے لاہور آنے والے ہر بس مسافر کو پہلے دہلی جانا پڑتا تھا اور پھر لاہور کی بس پکڑنا ہوتی تھی جو کئی گھنٹے میں پانچ سو کلومیٹر سے زائد سفر کر کے لاہور پہنچتی تھی۔ اب امرتسر سے لاہور تک آنے والے شہری کو صرف پچپن کلومیٹر کی مسافت کرنا ہوگی۔ لاہور اور دہلی کے درمیان ڈھائی سال سے بسوں کی آمد و رفت جاری ہے جبکہ مارچ دو ہزار پانچ میں سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان بس سروس شروع ہوچکی ہے اس طرح جمعہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تیسری بس سروس کا آغاز ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق اگلے مرحلے پر امرتسر سے ننکانہ صاحب تک براہ راست ایک نئی بس سروس چلائی جائےگی جس کے لیے پاکستان میں ننکانہ صاحب سے واہگہ باڈر تک دو رویہ سڑک کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستانی شہریوں کو عام طور پر بھارتی پنجاب کے کسی شہر کا براہ راست ویزا جاری نہیں ہوتا۔ امرتسر اور لاہور کے مابین بس سروس کے آغاز سے پاکستانی شہریوں کے لیے بھارتی ویزوں کے لیے ایک نئی کھڑکی کھلنے کا امکان بھی پیدا ہوا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اس تجویز پر پہلے ہی سے بات چیت جاری ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن کا لاہور میں بھی ایک ویزا آفس قائم کیا جائے۔ | اسی بارے میں لاہور امرتسر بس بیس جنوری سے21 December, 2005 | پاکستان لاہور امرتسر مسافر بس جنوری سے20 December, 2005 | پاکستان امرتسر سےلاہور، آزمائشی سفر11 December, 2005 | پاکستان پانچ دہائیوں کے بعد لائن آف کنٹرول عبور 07 April, 2005 | پاکستان تاریخی سفر مکمل: عالمی خیر مقدم07 April, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||