BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 April, 2005, 15:48 GMT 20:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تاریخی سفر مکمل: عالمی خیر مقدم

کشمیر بس سروس
ستاون برس کے بعد کشمیری کنٹرول لائن عبور کر کے اپنے پیاروں سے ملے ہیں
سرینگر اور مظفر آباد سے چلنے والی بسیں تاریخی سفر مکمل کرکے اپنی اپنی منزلوں پر پہنچ چکی ہیں۔ بھارت اور پاکستان کی حکومتوں نے اپنے اپنے زیرانتظام کشمیر کے لوگوں کو 57 سال بعد ایک دوسرے سے ملنے اور لائن آف کنٹرول عبور کرنے کا موقع دے کر ایک تاریخ ساز مرحلہ سر کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کشمیروں کے مابین لوگوں کے بس سفر کو ’طاقت کا ایک پُر قوت مظاہرہ‘ قرار دیا ہے۔

انہوں نے اس سلسلے میں جاری کیے جانے والے بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ یہ ’اہم قدم‘ منقسم خاندانوں کے حالات کو بہتر بنانے اور ہندوستان و پاکستان کے درمیان تمام معاملات کے حل میں مدد دے گا۔

بھارت میں امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ملفورڈ نے اس سلسلے میں کشمیر میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک باہمی اختلافات ختم کرنے میں بھارت اور پاکستان کی حمایت کرے گا۔

روس کی وزارتِ خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بس سروس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنے کی جانب ایک اور قدم ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بس سروس شروع ہونے سےدونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات کے مؤثر ہونے کا ثبوت بھی ملتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ماسکو سمجھتا ہے کہ تمام مسائل کو بات چیت اور ماہرین کے درمیان مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی دو طرفہ کوششیں دونوں ملکوں کے درمیان اچھے ہمسایہ تعلقات قائم کرنے میں بہت مدد گار ثابت ہو گا۔

اس سے پہلے آنے والی اطلاعات میں ہمارے نمائندوں نے بتایا تھا کہ ہزاروں افراد کے خیرمقدم کے درمیان ستاون برس کے تعطل کے بعد سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان چلنے والی بس کے مسافروں نے جمعرات کی سہہ پہر لائن آف کنٹرول عبور کر لی۔

ملاقات
اس ملاقات کا انتظار 57 سال پر محیط ہے

دونوں بسوں کے مسافروں کے لیے یہ ایک جذباتی لمحہ تھا اور کچھ مسافر کنٹرول لائن عبور کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نے نئی بس سروس کو ’امن کا کارواں‘ کہا ہے۔

سری نگر سے چلنے والی بس مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے قریب مظفرآباد پہنچی جہاں مسافروں کے لیے مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جبکہ مظفرآباد سے سری نگر کی طرف سفر کرنے والی بس کے لیے شام کو ڈھل جھیل کے پاس استقبالیے کا انتظام تھا۔

سری نگر سے آنے والی بس پر شہر سے ستائس کلومیٹر دور پتن کے مقام پر گرینیڈ حملہ ہوا لیکن بس گرینیڈ کے پھٹنے سے پہلے اس مقام سے گزر گئی۔ حملے میں ایک پولیس والے سمیت چار افراد زخمی ہوئے۔

امن مخالف شدت پسندوں نے بس کو روکنے کا عہد کیا ہے۔ بدھ کے روز سری نگر میں شدت پسندوں نے اس کمپاؤنڈ پر حملہ کر دیا تھا جس میں بس کے مسافر ٹھہرے ہوئے تھے۔ حملے میں کمپاؤنڈ تناہ ہو گیا اور دونوں شدت پسند مارے گئے۔

لائن آف کنٹرول پر ان مسافروں کا استقبال بھارتی فوج کے بینڈ نے کیا۔

سری نگر حملہ
شدت پسندوں نے بدھ کے روز سری نگر میں بس مسافروں پر حملہ کیا تھا

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق لائن آف کنٹرول عبور کرتے وقت کئی مسافروں کی آنکھیں شدتِ جذبات سے آبدیدہ ہو گئیں۔ کئی مسافروں نے لائن عبور کرنے کے بعد زمین کو چوما۔

ایک مسافر ضیاء سردار نے کہا کہ ’میرے خیال میں میں نے اپنی زندگی کا مقصد پورا کر لیا ہے۔ کشمیر میری ماں ہے اور میں اپنی ماں سے مل رہا ہوں‘۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے آنے والے مسافروں کا امن کے پل پر ایک بڑے ہجوم نے استقبال کیا۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی رہائشی نورین عارف کے اپنے چچا راجہ نصیرالدین کو دیکھ کر خوشی سے آنسو نکل آئے۔

نصیرالدین نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ میں جنت میں آ گیا ہوں‘۔

سری نگر سے مظفر آباد چلنے والی بس شیرِ کشمیر کرکٹ سٹیڈیم سے جبکہ مظفر آباد سے چلنے والی بس وزیرِ اعظم سیکریٹیریٹ سے راونہ ہوئیں۔

سری نگر سے ہمارے نامہ نگار الطاف حسین نے بتایا کہ شیرِ کشمیر سٹیڈیم کے ارد گرد انتہائی سخت حفاظتی کیے گئے تھے۔ سری نگر سے پہلی بس روانہ ہونے کے بعد ایک اور بس بھی مظفر آباد کی طرف چل پڑی۔

امن کا کارواں روانہ
 امن کا کارواں چل پڑا ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔
بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ

مظفر آباد سے ہمارے نامہ نگاروں مظہر زیدی اور ذوالفقار علی نے بتایا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق پہلی بس صبح گیارہ بجے چلی جسے الوداع کہنے کے لیے سڑک پر جلوس کی صورت میں ہزاروں افراد موجود تھے۔

سرینگر میں مسافروں کو الوداع کہنے کے لیے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی بھی وہیں موجود تھیں۔ ادھر مظفر آباد میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم سردار سکندر حیات خان نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر جانے والے مسافروں کو الوداع کہا۔

سرینگر میں بارش کے باوجود بس کی روانگی کا منظر دیکھنے کی غرض سے ڈھائی ہزار افراد موجود تھے جنہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بحالی کی اس اہم ترین علامت کا خیر مقدم کیا۔

اس موقع پر بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ’امن کا کارواں چل پڑا ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔‘

News image
منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی بس کو الوداع کہہ رہے ہیں۔

گزشتہ روز شدت پسندوں کے حملے اور بس کے مسافروں کو مسلسل ملنے والی ان دھمکیوں کے پیش نظر کہ بس کو ’تابوت‘ بنا دیا جائے گا، شیرِ کشمیر کرکٹ سٹیڈیم میں سکیورٹی کے ایسے انتظامات کیے گئے تھے جن کی حالیہ ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

مظفرآباد میں بس کی روانگی کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ بس روانہ ہونے سے قبل مسافروں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔

اس سے قبل سرینگر میں حملے کے باوجود انڈیا اور پاکستان دونوں نے بسوں کے چلانے جبکہ مسافروں نے سفر کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

بس ڈرائیور پرویزتاریخی بس چلاؤں گا
میں بچھڑے ہوئے لوگوں کو آپس میں ملاؤں گا‘
کشمیرکشمیر، شرح و معیار
شرح خواندگی اور معیار میں باہمی اتفاق نہیں
غلام فاطمہ مظفر آباد جانے کی تیاری میںخوابوں کا سفر
کشمیری خوابوں کے سفر کی تیاری میں
پناہ گزین کیمپپناہ گزینوں کی سوچ
پاکستان میں کشمیری بناہ گزین کیا سوچتے ہیں؟
کشمیر’کامسر‘ مہاجر کیمپ
کمشیر کاحل، مہاجر بھی متفق نہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد