BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 March, 2006, 12:47 GMT 17:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ننکانہ سے امرتسر پہلی پاکستانی بس
ننکانہ امرتسر بس
بھارت پہنچنے پر پاکستانی بس کا والہانہ استقبال کیا جارہا ہے
حال ہی میں قائم کیئے گئے ننکانہ سے امرتسر کے رستے پر پہلی پاکستانی بس واہگہ بارڈر سے سرحد پار کرکے بھارت پہنچی ہے۔ منگل کو چلنے والی اس بس پر 35 مسافر سوار تھے۔

ان پینتیس مسافروں میں سے 14 پاکستان کے سرکاری اہلکار اور صحافی تھے اور دو برطانیہ میں مقیم سکھ ماں بیٹا تھے۔ یہ ماں اپنے سترہ سالہ بیٹے کے ساتھ واہگہ کے مقام سے بس پر سوار ہوئی تھی۔

یہ بس دراصل ننکانہ صاحب سے نہیں چلائی گئی بلکہ اس کا آغاز سفر لاہور سے ہوا۔

پاکستان کے ایڈیشنل ٹرانسپورٹ سیکرٹری محمد عباس نے بتایا کہ ننکانہ ساحب سے کسی نے بھی اس افتتاحی سفر کی بکنگ نہیں کرائی تھی جبکہ سرکاری اہلکار اور صحافی بھی اسلام آباد یا لاہور سے اس بس پر سوار ہوئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ننکانہ صاحب سے بھارت جنے والوں سے کہیں زیادہ وہ سکھ افراد ہوں گے جو بھارتی پنجاب سے ننکانہ صاحب آنا چاہتے ہیں جس کی صاف طور پر وجہ یہی ہے کہ بھارت میں بسنے والے لاکھوں سکھوں کے لیئے یہ نہایت مقدس مقام ہے اور وہ سب یہاں کا دورہ کرنے کے بہت خواہشمند ہیں۔

امرتسر۔ننکانہ بس سروس
امرتسر سے ننکانہ صاحب آنے والی بس

دوسری جانب ننکانہ صاحب کا سکھ آبادی محض پانچ سو نفوس پر مشتمل ہے۔

بھارت کی جانب سے ننکانہ صاحب آنے والی پہلی بس 24 مارچ کو یہاں پہنچی تھی اور اگلے ہی روز واپس روانہ ہوگئی تھی۔

بھارت سے آنے والی اس بس سروس کی افتتاحی تقریب میں بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ بس کے آغاز کے موقع پر وہ امرتسر میں ہونے پر بہت خوش ہیں اور یہ پنجاب کے لیے ایک اور یادگار دن ہے۔

اس بس میں تقریبا چالیس مسافر سوار تھے جس میں زیادہ تعداد ریاستی وزیروں اور سرکاری اہلکاروں کی ہے۔

پاکستان کے پنجاب میں ننکانہ صاحب اور بھارت کے پنجاب میں امرتسر کے درمیان صرف ایک سو تیس کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔

بڑی تعداد میں سکھ برادری ننکانہ صاحب کی زیارت کے لیے جاتی ہے لیکن نقل و حمل کا کوئی مستقل بندوبست نا ہونے کے سبب مسافروں کو کافی دشواریاں اٹھانی پڑتی تھیں۔گزشتہ کافی عرصے سے دونوں شہروں کے درمیان بس چلانے کا مطالبہ ہورہا تھا اور دونوں ملکوں نے دس مارچ کو پہلی بس چلانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعض تکنیکی وجوہات کی بنا پر اس سروس کو تاخیر سے سے شروع کیا گیا ہے۔

سرینگر تا مظفرآباد
آخر سرکاری ملازمین کی باری کب آئے گی؟
افغانوں کی آرزو
’ہم صلح چاہتے ہیں اے ہمارے دوست پاکستان‘
اسی بارے میں
امرتسر سے بس لاہور پہنچ گئی
24 January, 2006 | پاکستان
لاہور امرتسر بس بیس جنوری سے
21 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد