BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 March, 2006, 08:56 GMT 13:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہم صلح چاہتے ہیں پاکستان‘

پاکستان افغانستان بس سروس
پاکستان اور افغانستان آزمائشی بس سروس آزمائشی جلال آباد کے لیے روانہ۔
چہروں پر مسکراہٹوں، دل میں محبت اور ہاتھوں میں پھولوں سے افغانستان کے عوام نے سرحد پار پاکستان سے آئی پہلی آزمائشی بس سروس کا استقبال کیا۔
بظاہر یہ آزمائش بس کی نہیں بلکہ افغان عوام کی تھی جس میں وہ کسی طرح بھی ناکام نیں ہوئے۔


پاکستان اور افغانستان کے درمیان باقاعدہ بس سروس شروع کرنے کی غرض سے جمعہ کے روز پشاور سے ایک آزمائشی بس نے جلال آباد کا سفر کیا۔ سات گھنٹوں کے اس سفر میں پشتونوں کی ایک اور وجہ شہرت یعنی ان کی مہمان نوازی کا مزا بھی چکھنے کو ملا۔

ریل گاڑی جیسا ہارن بجاتی ایک نجی کمپنی یونائیٹڈ ٹرانسپورٹ کی یہ ہرے رنگ کی بس تقریباً ایک سو چالیس کلومیٹر مغرب میں جلال آباد کے لیئے صبح نو بجے پشاور پریس کلب سے روانہ ہوئی۔

حاجی مہمند کوچ کی یہ بس اگرچہ اس سے قبل پشاور اور بہاولپور کے درمیان چلتی تھی لیکن جمعہ کے روز اس کی منزل یکسر مختلف تھی۔ ملک مختلف تھا، لوگ مختلف تھے۔

حکومتی تلخی نظر نہ آئی
 ’ہم صلح چاہتے ہیں اے ہمارے دوست پاکستان۔‘ انہی دوستی کے پیغامات کے درمیان یہ سفر اختتام کو پہنچا تاہم اس دوران عوامی سطح پر کہیں بھی حکومتی سطح کی حالیہ تلخی دیکھنے کو نہیں ملی

اگلے سات گھنٹوں کا سفر انتہائی دلچسپ اور مہمان نوازی سے بھرپور رہا۔جہاں سے گزرے سڑک کے کنارے کھڑے لوگوں نے ہاتھ لہرا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔تاہم افغانستان میں تو کئی لوگوں نے پھول پھینک کر خوشی کا اظہار بھی کیا۔

طورخم پہنچے تو فرنٹئیر سکاوٹس کے جوانوں نے بینڈ، روایتی خٹک رقص اور ہوائی فائرنگ سے بس کا استقبال کیا۔

طورخم کے مقام پر صوبہ سرحد کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ساجد جدون نے اس سروس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اپریل کے وسط سے ان دونوں مقامات سے چھ بسیں روزانہ چلا کریں گی۔

پشاور سے اس سلسلے میں سیاحتی فروغ کا ادارہ پی ٹی ڈی سی بھی ایک بس چلائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسرے مرحلے میں کوئٹہ اور قندہار کے درمیان بس شروع کی جائے گی جبکہ بعد میں تیسرے مرحلے میں پشاور کابل سروس شروع کرنے کا ارادہ ہے۔

پشاور سے جلال آباد کا یکطرفہ کرایہ تین سو روپے ہے۔ اس میں یونائیٹڈ ٹرانسپورٹ کمپنی کے چئیرمین ذکریا خان کا کہنا تھا کہ مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سروس مہیا کی جائے گی۔

امریکی شہریت اور مسلم لیگ کا پس منظر رکھنے والے ذکریا خان نے بتایا کہ اس کرائے میں مسافروں کو کھانا اور چائے دی جائے گی جبکہ ان بسوں میں بیت الخلاء بھی ہونگے۔ انہوں نے بتایا کہ مسافروں سے اضافی پانچ یا دس روپے لے کر ان کا بیمہ بھی کیا جائے گا۔ دس روپے دینے والے کا دو لاکھ جبکہ پانچ والے کا ایک لاکھ میں بیمہ ہو گا۔

اس پرخطر روٹ پر کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ کاروبار ہی نہیں جس میں خطرہ نہ ہو۔ تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں حکومتیں اس بس کی حفاظت کو ضرور یقینی بنائیں گی۔

افغانستان میں داخل ہوئے تو میزبانوں نے سکول کے بچوں کے ذریعے استقبال ایک پشتو نظم کی صورت میں کیا جس میں ’ہمارے پیارے مہمانوں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں، ہم آپ کا بہت احترام کرتے ہیں’ جیسے جذبات کی عکاسی کی گئی تھی۔

اس کے بعد سفید لباس میں ملبوس نوجوانوں نے روایتی پشتو اتنڑ رقص پیش کیا۔ اس رقص میں ناچنے والے کے لمبے بال بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان بالوں کو وہ خاص طرز گول گول گھوم کر جھٹکتے رہتے ہیں۔

افغان عوام کا مطالبہ
 ہمارے رشتے ہیں آنا جانا ہے۔ ہم روزانہ تو ویزے نہیں لے سکتے۔اس شرط سے تو شاید یہ بس بھی کامیاب نہ ہو پائے گی‘
وہاں موجود لنڈی کوتل کے حاجی خان زاد شنواری نے ایک ایسا مسئلہ اٹھایا جس پر پاکستان اور افغانستان دونوں کے عوام ہم آواز دیکھائی دیئے۔ یہ مطالبہ تھا ویزہ کی بندش ختم کرنے کا۔ ’ہمارے رشتے ہیں آنا جانا ہے۔ ہم روزانہ تو ویزے نہیں لے سکتے۔اس شرط سے تو شاید یہ بس بھی کامیاب نہ ہو پائے۔‘

ویزہ اور پاسپورٹ کا مسئلہ طورخم پر پاکستانی وفد کو بھی پیش آیا۔ افغان حکام نے وفد کے ساتھ آئے درجن بھر صحافیوں کو بغیر ویزے آگے سفر کرنے کی اجازت نہ دینے کا کہا۔ اس پر قدرے تلخی بھی پیدا ہوئی لیکن کافی لے دے کے بعد گورنر ننگرہار شیر آغا شیرزئی کے خصوصی حکم پر صحافیوں کو جانے دیا گیا۔

بغیر ویزے وفد میں شامل پاکستانی اہلکاروں نے تو یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی کہ صحافی ٹرانسپورٹر لے کر آئیں ہیں وہ جانیں اور افغان حکام۔ لیکن ٹرانسپوٹروں کا موقف تھا کہ پشاور پہلی دوستی بس میں آئے افغان حکام نے انہیں جتنے چاہیں صحافی بغیر ویزے ساتھ لانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ (بی بی سی کی ٹیم کے پاس ویزے موجود تھے۔

آغاز ڈیڑھ گھنٹے بعد سفر کا دوبارہ آغاز ہوا تو کچی سڑک پکڑ لی کیونکہ پاکستانی حکومت طورخم جلال آباد شاہراہ گزشتہ تین برسوں سے بنانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن یہ سڑک بن نہیں پا رہی۔

راستے میں مومندرہ کے مقام پر انتظار میں کھڑے افغانوں نے بھی حکام سے ویزے کی شرط ختم کرنے کی مانگ کی۔ وہاں روایتی پشتو موسیقی اور بے دریغ ہوائی فائرنگ کا مناسب انتظام تھا۔

اسی مقام پر ایک فوجی نے ’پختون ایک ہیں‘ کا پشتو گانا گا کر جبکہ اس کے ایک دوسرے ساتھی نے گولی چلا کر خوشی کا اظہار کیا۔

موسیقی کے ذریعے استقبال کا یہ سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ جب جلال آباد پہنچے تو مقامی سکھ لڑکوں نے ڈانڈیا رقص کیا۔

افغانستان کی وزارت اطلاعات کے ہال میں مختصر سی تقریب میں افغان بچیوں نے ایک ایسی نظم پیش کی جو بظاہر موجودہ حالات کے مطابق محسوس ہوتی تھی۔

’ہم صلح چاہتے ہیں اے ہمارے دوست پاکستان۔‘ انہی دوستی کے پیغامات کے درمیان یہ سفر اختتام کو پہنچا تاہم اس دوران عوامی سطح پر کہیں بھی حکومتی سطح کی حالیہ تلخی دیکھنے کو نہیں ملی۔

اسی بارے میں
پشاور، جلال آباد بس روانہ
17 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد