پشاور، جلال آباد بس روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ستائیس برس کے تعطل کے بعد پہلی بار پاکستان سے افغانستان کے لیے جانے والی بس پشاور سے جلال آباد کے لیے جمعہ کی صبح روانہ ہوگئی۔ آزمائشی طور پر چلائے جانے والی اس بس پر پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید بھی سوار ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بس سروس کا آغاز کئی عشروں کے بعد ایک ایسے وقت ہورہا ہے جب دونوں کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ اتوار کو سابق افغان صدر صبغت اللہ مجددی نے الزام لگایا تھا کہ کابل میں ان پر ہونے والے خود کش حملے میں پاکستان ملوث ہے۔ کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ اس سلسلے کی پہلی بس گزشتہ بدھ کو جلال آباد سے پشاور آئی تھی۔ جمعہ کی صبح پشاور سے جلال آباد جانے والی بس گزشتہ لگ بھگ تین عشروں میں پہلی بس سروس ہے۔ پشاور میں سرحد کی صوبائی حکومت نے جمعرات کے روز بس سروس کے بارے میں سکیورٹی اور امیگریشن سے متعلق تمام معاملات کا جائزہ لیا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان باقاعدہ بس سروس کا آغاز پندرہ اپریل سے ہونے والا ہے۔ پہلے سے طے شدہ انتظامات کے مطابق پشاور سے جلال آباد کے لیے روزانہ چھ بسیں جائیں گی جن میں پانچ نجی بسیں ہوں گی۔ اس سمجھوتے کے تحت جلال آباد سے روزانہ چھ بسیں پشاور آیا کریں گی۔ افغانستان اور پاکستان کے حکومتوں نے اگلے مرحلے میں پشاور اور کابل کے درمیان براست بسیں چلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں پاکستان، افغانستان بس سروس کا آغاز15 March, 2006 | پاکستان حملے کا خدشہ، سکیورٹی میں اضافہ14 March, 2006 | پاکستان جلال آباد پشاور بس سروس معاہدہ 23 February, 2006 | پاکستان پاک افغان بس سروس معاہدہ23 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||